امریکی کارروائیاں صرف فوجی اہداف تک محدود ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس

واشنگٹن(ویب ڈیسک) ایران کی جانب سے شہری انفراسٹرکچر پر حملوں اور جنگی جرائم کے الزامات کے بعد وائٹ ہاؤس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکی فوج نے اپنی کارروائیوں میں صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں زیادہ تر شہری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور ایسے ہمسایہ ممالک پر بھی حملے کیے ہیں جن کا موجودہ تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو محدود کیا جائے اور ایرانی حکومت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر ایک اور "کھلی جنگی جارحیت” کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے ایک اور سنگین جنگی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے دعویٰ کیا کہ امریکا شہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر اور بے گناہ شہریوں کو قتل کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

انہوں نے امریکی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر پر حملے بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران دونوں ایک دوسرے پر متضاد الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

مزید خبریں

Back to top button