بدین میں سرکاری واٹر کورس پر مبینہ قبضے کیخلاف کاشتکاروں کا احتجاج،دھرنے کی دھمکی

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)سرکاری واٹر کورس پر مبینہ قبضے کے خلاف کاشتکاروں کا احتجاج، دھرنے کی دھمکی .سیڈا کے چئیرمین پر واٹر کورس پر غیر قانونی تجاوزات تعمیر کرنے کا الزام خبر کے مطابق ٹنڈوباگو کے قریب شادی لارج واہ سے نکلنے والے واٹر کورس آر-7 پر مبینہ قبضے کے خلاف متاثرہ کاشتکاروں نے سیاسی سماجی کاروباری شخصیات دلبر سندھی، سچل ہالیپوٹو، ظہیر عباس خواجہ، کارو ہالیپوٹو، گلن جونیجو، رجب خواجہ، مصطفیٰ ہالیپوٹو، جاوید ہالیپوٹو اور کامران خواجہ کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا ، اس موقع پر احتجاج کرنے والے مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ حکومتی شخصیت اور سیڈا بدین کے چیئرمین حاجی سائیں بخش جمالی نے واٹر کورس کے قریب پلاٹ خریدنے اور دھان چاول کے کارخانہ کی تعمیر کے موقع پر عید کی تعطیلات کے دوران تقریباً 100 سال سے جاری سرکاری واٹر کورس آر-7 کو بند کرکے اس پر ستون نصب کر دیے اور دونوں اطراف دیواریں تعمیر کروا کر قبضہ کر لیا ہے۔ کاشتکاروں کا کہنا تھا کہ واٹر کورس کو مبینہ طور پر ایک رائس مل کے احاطے میں شامل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث 400 سے زائد کاشتکار شدید متاثر ہوں گے۔ ان کے مطابق واٹر کورس پر قبضے کی وجہ سے گردونواح کی سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی بنجر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے غریب کسان اور ہاری معاشی بدحالی کا شکار ہو جائیں گے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ یہ اقدام انہیں معاشی طور پر تباہ اور زمینوں کو غیر آباد کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ، ضلع کے منتخب نمائندے، جی ڈی اے کی قیادت، ڈپٹی کمشنر بدین، ایس ایس پی بدین اور محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام فوری نوٹس لے کر واٹر کورس سے مبینہ قبضہ ختم کرائیں۔ کاشتکاروں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری عمل نہ کیا گیا تو (آج) سینکڑوں کاشتکاروں اور ہاریوں دیگر شہریوں کے ہمراہ ٹنڈوباگو پنگریو روڈ پر دھرنا دیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔



