5 اگست 2019ءکے بھارتی اقدامات کے بعد کشمیری عوام کو جبر کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑا،عاصم افتخار

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)اقوام متحدہ میں پاکستان کےمستقل مندوب عاصم افتخاراحمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست 2019ءکے اقدامات کے بعد کشمیری عوام کو جبر کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑا، 9لاکھ سے زائد بھارتی فوج کے کشمیری عوام پر مظالم ریاستی دہشتگردی کی بدترین مثال ہیں۔
عالمی امن وسلامتی کو دہشتگردی سے لاحق خطرات پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامع عالمی ردِعمل میں دہشتگردی کی تمام صورتوں کا مؤثر تدارک ضروری ہے، غیر ملکی قبضے کی صورت میں سامنے آنے والی ریاستی دہشتگردی بھی شامل ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ 7 برس قبل مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات کئے گئے، کشمیری عوام 7دہائیوں سے حقِ خودارادیت سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں، 5 اگست 2019ءکے اقدامات کے بعد کشمیری عوام کو جبر کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑا، 9لاکھ سے زائد بھارتی فوج کے کشمیری عوام پر مظالم ریاستی دہشتگردی کی بدترین مثال ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی دہشت گردی کے ایسے واضح مظاہر کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، انسدادِ دہشتگردی کو غیر ملکی قبضے کیخلاف جائز جدوجہد کیلئےاستعمال نہ کیا جائے، دہشتگردی کا خاتمہ دوہرے معیار کے بغیر جامع اور مربوط عالمی تعاون سے ہی ممکن ہے، افغانستان سے بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرے سے مؤثر انداز میں نمٹنا ناگزیر ہے۔
ان کا کہناتھا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کیخلاف دہشتگرد کارروائیوں کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیے، دہشتگرد گروہوں کو اسلحہ اور مالی وسائل تک رسائی سے روکنا عالمی کوششوں کا اہم حصہ ہے، دہشتگردی سرحدوں کی پابند نہیں، اس کا کوئی مذہب نہیں،یہ پوری انسانیت کیلئےخطرہ ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے پابندیوں کے نظام اور انسدادِ دہشتگردی ڈھانچے میں اصلاحات ضروری ہیں، عالمی امن کیلئے خطرہ بننے والے تمام دہشتگرد گروہوں کو فہرست میں شامل کیا جائے، پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے مشترکہ عالمی کوششوں میں کردار ادا کرتا رہے گا۔



