ہمارےمطالبات نہ مانے گئے تو27 ستمبرکواسلام آباد کارخ کرینگے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

پشاور(جانوڈاٹ پی کے)تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد جانے کا اعلان کردیا، وزیراعلیٰ کے پی نے کہا ہے کہ ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو اسلام آباد کا رخ کریں گے، عمران خان کا ان کے معالج سے علاج کرایا جائے، ان سے ملاقات سمیت تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔

پشاور میں موٹر وے کے قریب جلسے سے خطاب میں وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ بانی آج ایک دستخط کریں وہ جیل سے باہر ہوں گے مگر وہ یہ صعوبتیں عوام اور آنے والی نسلوں کے لیے برداشت کررہے ہیں، ہمیں عدالتوں سے کوئی امید نہیں رہی، 26 ویں 27 ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتں مفلوج ہوچکی ہیں، بانی سے ملاقات کے لیے ہر آئینی و قانونی راست اپنایا مگر ہماری بات نہیں سنی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم احتجاج کریں تو گولیاں چلائی جاتی ہیں، زہریلا پانی پھینکا جاتا پے، ہمیں بتایا جائے عمران خان کو کس چیز کی سزا دی جارہی ہے، بانی کو بیرونی سازش کے ذریعے کرسی سے اتارا گیا، عمران خان نے بیرونی قوتوں کو انکار کیا تھا، عمران خان کے دور میں پاکستان ترقی کررہا تھا، کسان، مزدور عوام خوشحال تھے، بیرونی غلاموں نے بیرونی اشاروں پر عمران خان کو کرسی سے اتارا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ دور میں ملکی معیشت تباہ ، کسان پریشان ہے، نوجوان ملک سے باہر جارہا ہے، موجودہ حکمرانوں نے 5 ہزار سو ارب روپے کی کرپشن کی ہے، خیبرپختونخوا میں بدامنی لائی جارہی ہے، ان لوگوں کو آباد کیا جاریا ہے جنہوں نے 20 سال لوگوں کا خون بہایا، آج خیبر پختونخوا لہولہان ہے، عوام ڈرون حملوں اور خودکش حملوں میں شہید ہورہے پیں، ڈالرز لینے اور جزیرے خریدنے کے لیے پختون کا خون بہایا جارہا ہے، کشمیر، بلوچستان میں گولیاں چلا رہے ہیں، جب ڈرنا نہیں ہے تو خان کا سپاہی آپ کی قیادت کرے گا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ملک پر مسلط قبضہ مافیا بند کمروں میں فیصلے کرتے ہیں فیصلہ ساز بیرونی طاقتوں کے اجرتی قاتل بنے ہوئے ہیں، کچھ لوگ آپ کو کاکروچ  کہتے ہیں جب کہ آپ اقبال کے شاہین ہیں، چند خاندان ملک پر مسلط ہیں، ہم نے خود نکلنا ہے اقبال کا شاہین بننا ہے، ہم نےہر  قانونی آئینی راستے اپنایا انصاف نہیں ملا اب ایک ہی راستہ ہے احتجاج کا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کا رخ کریں گے، عدالتی انصاف چاہیے بھیک نہیں چاہیے ہمیں ہمارا لیڈر چاہیے۔

مزید خبریں

Back to top button