ٹرمپ نے پلک جھپک لی،آبنائے ہرمز میں امریکی شکست کی دستک؟واشنگٹن میں بڑی برطرفیاں

لاہور(خصوصی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)پاک امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اعصاب شکن جنگ میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی (سیز فائر) کا اعلان کر کے ایک طرح سے اپنی پلکیں جھپکا دی ہیں۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریوں کے درمیان ٹرمپ کا یہ فیصلہ ایران کے بڑھتے ہوئے سفارتی اور تزویراتی وزن کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ حیران کن طور پر اس سیز فائر کے ساتھ ہی امریکی وزیر بحریہ (سیکرٹری آف نیوی) جان سی فیلن کو ان کے عہدے سے اچانک برطرف کر دیا گیا ہے، جسے امریکی انتظامیہ کے اندر پائی جانے والی شدید تقسیم اور ایران کے خلاف نیول بلاکیڈ کی ناکامی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی نیوی کی موجودگی کے باوجود ایران کے 37 تیل بردار جہازوں نے ناکہ بندی توڑ کر خلیج فارس میں داخل ہو کر واشنگٹن کو بڑا دھچکا دیا ہے۔
اسلام آباد میں مذاکرات کی کھڑکی ابھی کھلی ہے اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر سے ملاقات نے ان امیدوں کو تقویت دی ہے کہ ایران جلد مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا۔ تاہم واشنگٹن کے اندر صورتحال سنگین ہے جہاں اب تک ایک درجن سے زائد سینیئر فوجی افسران کو برطرف کیا جا چکا ہے کیونکہ وہ سویلین انفراسٹرکچر پر حملوں کو "جنگی جرائم” قرار دے کر ٹرمپ کی حکمت عملی سے اختلاف کر رہے تھے۔ دوسری جانب چین نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے کہ عالمی امن کے لیے امریکہ اور اسرائیل سے جوہری ہتھیار واپس لے لینے چاہئیں۔ پاکستان، جس کی معیشت اس وقت شدید دباؤ میں ہے اور ورلڈ بینک نے اسے جنوبی ایشیا کی فہرست سے نکال کر کمزور معیشت والے افریقی و مشرق وسطیٰ کے ممالک میں شامل کر دیا ہے، اس جنگ کے جلد خاتمے کا متمنی ہے تاکہ توانائی کی سپلائی بحال ہو سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ٹرمپ اپنی "فیس سیونگ” کے لیے کوئی نیا کارڈ کھیلتے ہیں یا ایران اپنی بے لچک پالیسی سے امریکہ کو مکمل پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔




