ٹرمپ کاکینیڈا پربڑاوار،گاڑیوں اورسٹیل پر50فیصد ٹیرف کااعلان

واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے خلاف بڑا تجارتی اقدام کرتے ہوئے کینیڈین مصنوعات پر ٹیرف 50 فیصد تک بڑھانے کا اعلان کردیا، جس سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سخت بیان میں کہا کہ کینیڈا برسوں سے امریکا کو نقصان پہنچاتا آ رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی خسارہ 60 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال امریکا کیلئے پائیدار نہیں اور اب اسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یکم جنوری 2027 سے کینیڈین گاڑیوں اور اسٹیل پر محصولات 50 فیصد کردیئے جائیں گے۔ امریکی صدر کے اس فیصلے کو کینیڈا کے ساتھ واشنگٹن کی تجارتی پالیسی میں ایک بڑا اور سخت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر نے کینیڈا کو مزید سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اب کینیڈا کے ساتھ کسی امریکی ریاست جیسا سلوک نہیں کیا جائے گا۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا کو کینیڈا کی ضرورت نہیں بلکہ کینیڈا کو امریکا کی ضرورت ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کینیڈا کی تقریباً 95 فیصد تجارت امریکا کے ساتھ ہے، جس کی وجہ سے امریکی مارکیٹ پر کینیڈا کا انحصار انتہائی زیادہ ہے۔
تجارتی ماہرین کے مطابق کینیڈین مصنوعات پر ٹیرف میں نمایاں اضافے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، گاڑیوں کی صنعت، اسٹیل مارکیٹ اور صارفین کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ کینیڈا کی جانب سے ممکنہ جوابی اقدامات کی صورت میں شمالی امریکا میں تجارتی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کے اعلان کے بعد عالمی تجارتی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں کینیڈا کے ممکنہ ردعمل پر نظریں مرکوز ہوگئی ہیں۔امریکا اور کینیڈا کے درمیان برسوں پرانے تجارتی تعلقات اب نئے ٹیرف وار کی زد میں آگئے ہیں، جس کے اثرات دونوں ممالک کی معیشت اور عالمی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔



