بہت جلد ایران کے جوہری مرکز کو تابڑ توڑ حملوں سے نشانہ بنائیں گے،ٹرمپ

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جلد ہی نطنز کے قریب واقع پک ایکس ماؤنٹین کے علاقے کو بہت بھاری حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔ جہاں ایران نے ممکنہ طور پر جدید یورینیم افزودگی کے سینٹری فیوجز منتقل کیے ہیں۔

لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران نے نطنز کے قریب واقع پک ایکس ماؤنٹین میں اپنے سینٹری فیوجز منتقل کر دیے ہیں؟

اس پر انہوں نے جواب دیا کہ عام طور پر میں ایسی بات پہلے سے نہیں کرتا لیکن اگر مجھے لگتا کہ وہ اس کا کوئی جواب دے سکتے ہیں تو میں ہرگز یہ بات نہ کرتا۔ ہم اس علاقے کو بہت جلد اور بہت بھاری انداز میں نشانہ بنائیں گے۔

پک ایکس ماؤنٹین ایران کی مرکزی نطنز یورینیم افزودگی تنصیب کے قریب واقع ایک انتہائی محفوظ زیرِ زمین مقام سمجھا جاتا ہے۔

مغربی انٹیلی جنس اداروں اور جوہری ماہرین کے مطابق اس پہاڑ کے اندر گہرے سرنگی کمپلیکس موجود ہیں جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ایران نے حساس جوہری آلات یا سینٹری فیوجز وہاں منتقل کیے ہو سکتے ہیں۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تنصیبات اتنی گہرائی میں ہیں کہ انہیں روایتی بنکر شکن بموں سے مکمل طور پر تباہ کرنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے اس مقام کو نشانہ بنانے کی بات کی ہو۔ گزشتہ ہفتے بھی انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکا پک ایکس ماؤنٹین کو تباہ کر دے گا اور ایران کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے اُس وقت بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکا ایران کے جوہری مرکز نطنز کے قریب واقع پک ایک ماؤنٹین کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔

امریکی صدر کی اس تازہ دھمکی پر ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن ماضی میں ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اپنی جوہری تنصیبات پر کسی بھی حملے کا سخت جواب دے گا۔

مزید خبریں

Back to top button