ٹھٹھہ میں تعلیم کا بڑا منصوبہ، اے ڈی بی کے تعاون سے اسکولوں کی اپ گریڈیشن مکمل

ٹھٹھہ (رپورٹ: جاوید لطیف میمن/جانو ڈاٹ پی کے)ضلع ٹھٹھہ میں تعلیم کے شعبے میں اہم پیش رفت، سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے اے ڈی بی کے تعاون سے مکمل کیے گئے اسکولوں کی اپ گریڈ شدہ عمارتوں کا افتتاح کردیا۔ دورے کے دوران وزیر تعلیم نے سندھ کی ممکنہ تقسیم کے معاملے پر بھی صوبائی حکومت اور پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح کردیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے ضلع ٹھٹھہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اے ڈی بی کے تعاون سے سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت مکمل ہونے والے اسکولوں کا جائزہ لیا۔

دورے کے دوران پہلے گھارو پہنچ کر گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول گھارو نمبر 2 کی اپ گریڈ شدہ عمارت کا افتتاح کیا گیا، جبکہ بعد ازاں مکلی میں تاریخی پبلک اسکول کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی گئی۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق ٹھٹھہ میں مجموعی طور پر تین اپ گریڈ شدہ اسکولوں کی عمارتوں کا افتتاح کیا گیا۔

تقریب میں صوبائی وزیر ورکس سروسز و جیل علی حسن زرداری، پیپلز پارٹی ضلع ٹھٹھہ کے صدر اور رکن قومی اسمبلی صادق علی میمن، سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر عبدالواحد سومرو، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی، ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت، ایس ایس پی ٹھٹھہ عدیل حسین چانڈیو سمیت دیگر حکام اور شخصیات موجود تھیں۔

اس موقع پر سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اسکولوں کی صرف عمارتیں اپ گریڈ نہیں کی جارہیں بلکہ سندھ میں معیاری تعلیم کے لیے میرٹ کی بنیاد پر نئے اساتذہ کی بھرتیاں بھی کی گئی ہیں، تاکہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ و طالبات کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

اے ڈی بی کے تعاون سے جاری منصوبے کے تحت سندھ کے 10 جنوبی اضلاع میں 116 جدید سیکنڈری اسکول عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں۔ منصوبے میں ٹھٹھہ، سجاول، بدین، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو اللہیار، میرپورخاص، عمرکوٹ، تھرپارکر، سانگھڑ اور مٹیاری شامل ہیں۔ جدید اسکولوں میں سائنس اور کمپیوٹر و آئی ٹی لیبارٹریز، سولر سسٹم، واٹر فلٹر پلانٹس اور دیگر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم نے سندھ کی ممکنہ تقسیم کے حوالے سے کہا کہ سندھ اسمبلی اس معاملے پر متعدد مرتبہ قراردادیں منظور کرکے اپنا آئینی کردار ادا کرچکی ہے، جبکہ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کا مؤقف بھی اس معاملے پر واضح ہے۔

سید سردار علی شاہ نے مزید کہا کہ آئین میں وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں سمیت تین سطحوں کا حکومتی نظام موجود ہے۔ انہوں نے سندھ میں بلدیاتی نظام اور دیگر صوبوں میں مقامی حکومتوں کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا مؤقف بیان کیا۔

ایم کیو ایم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم نے ماضی میں نفرت کی سیاست کی اور صوبے کی تقسیم کا مؤقف پیش کیا۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے درمیان بھی سیاسی اختلافات موجود ہیں اور وہ سندھ کی تقسیم کے معاملے کو سیاسی ردعمل پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

دورے کے موقع پر اسکول پہنچنے والے مہمانوں کا طلبہ نے گلدستے پیش کرکے استقبال کیا، جبکہ تقریب کے آغاز سے قبل قومی ترانہ بھی پیش کیا گیا۔

حکام کے مطابق اے ڈی بی کے تعاون سے جاری تعلیمی منصوبوں کا مقصد بالخصوص دیہی اور پسماندہ علاقوں میں پوسٹ پرائمری تعلیم کے مواقع بہتر بنانا اور جدید تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button