تیز بارشوں کے باعث ننگرپارکر چوڑیوں روڈ کئی مقامات سے ٹوٹ کر بہہ گیا، سیاح اور مقامی افراد پریشان

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ننگرپارکر سے چوڑیوں مندر تک جانے والی تقریباً 38 کلومیٹر طویل سڑک حالیہ تیز بارشوں کے باعث مختلف مقامات سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر پانی کے ساتھ بہہ گئی ہے، جس کے باعث مقامی رہائشیوں، یاتریوں اور سیاحوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق چند سال قبل وفاقی حکومت اور وزارتِ دفاع کی جانب سے ننگرپارکر–چوڑیوں روڈ کو دفاعی بارڈر لائن روڈ کے طور پر بھاری لاگت سے منظور کیا گیا تھا، تاہم سڑک کا کام مکمل ہونے سے قبل ہی ہر سال بارشوں کے دوران مختلف مقامات سے ٹوٹنے اور خراب ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔چوڑیوں مندر ننگرپارکر کا ایک اہم مذہبی اور تیرتھ یاترا مقام ہے، جہاں سال بھر مختلف میلے منعقد ہوتے ہیں اور ہزاروں یاتری اپنے بچوں سمیت پہنچتے ہیں۔ اس کے علاوہ چوڑیوں پہاڑ سے بارڈر لائن اور رن آف کچھ کے خوبصورت مناظر دیکھنے کے لیے بارشوں اور بارشوں کے بعد بڑی تعداد میں سیاح بھی اس تفریحی مقام کا رخ کرتے ہیں۔ حالیہ تیز بارشوں کے دوران ننگرپارکر–چوڑیوں روڈ کئی مقامات سے ٹوٹنے اور بارش کے پانی کے ساتھ بہہ جانے کے باعث مزید خراب ہوگیا ہے۔ سڑک کی خستہ حالی کے باعث یاتریوں، سیاحوں اور مقامی لوگوں کو صحرائی علاقے سے سفر کے دوران شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ متعدد سیاحوں، علاقہ مکینوں اور میڈیا نمائندوں نے بھی سڑک کی خراب حالت پر شکایات کی ہیں۔ چوڑیوں اور گردونواح کے دیہات کے رہائشی بھی سڑک کی خراب حالت سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر بارشوں کے موسم میں سڑک کے اطراف کچے راستے ریتلی زمین کے باعث دلدل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس سے مقامی افراد کو ننگرپارکر اسپتال، شہر اور روزگار کے لیے باہر نکلنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ مقامی سماجی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں، مندر آنے والے یاتریوں اور سیاحوں نے سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیرِ ہائی ویز، کمشنر میرپورخاص ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر تھرپارکر سے مطالبہ کیا ہے کہ ننگرپارکر–چوڑیوں روڈ کی مرمت اور بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے اور سڑک کو مضبوط بنایا جائے۔ سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جہاں بارش کے پانی کے بہاؤ سے سڑک کو نقصان پہنچتا ہے، وہاں مضبوط سڑک، نکاسیٔ آب کا مناسب نظام اور قدرتی گزرگاہیں کھلی رکھی جائیں تاکہ مستقبل میں بارشوں کے دوران سڑک بار بار ٹوٹنے سے محفوظ رہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سڑک کو مستقل بنیادوں پر بہتر اور محفوظ بنایا جائے تاکہ سیاحت کو فروغ ملے اور ننگرپارکر و تھرپارکر کے قدرتی، تاریخی اور مذہبی مقامات کا رخ کرنے والے سیاحوں اور یاتریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

مزید خبریں

Back to top button