بدین:اسکول کی عمارت سے محروم بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پرمجبور

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے )22 سال سے اسکول عمارت اور فرنیچر سے محروم معصوم طلبہ کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور گھروں سے چارپائیاں لا کر درختوں کے نیچے بیٹھنے پر مجبور، محکمہ تعلیم کی مسلسل بے حسی پر والدین اور دیہاتی سراپا احتجاج تفصیل کے مطابق

ملکانی شریف کے قریب واقع گاؤں حاجی خان چانڈیو کا پرائمری اسکول گزشتہ 22 سال سے بنیادی سہولیات اور اسکول کی عمارت سے محروم ہے، جس کے باعث معصوم طلبہ شدید مشکلات میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ اسکول میں نہ مناسب عمارت موجود ہے، نہ فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات، جبکہ شدید گرمی اور نامساعد حالات میں بچے کھلے آسمان تلے درختوں کے سائے میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں

گاؤں کے مکینوں کے مطابق اسکول میں فرنیچر کی شدید قلت کے باعث طلبہ اپنے گھروں سے چارپائیاں لا کر اسکول میں بچھاتے ہیں اور بعض بچے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ 22 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کی عمارت تعمیر نہ ہونا محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے گاؤں مکینوں کا کہنا ہے کہ اسکول کی عمارت، فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے محکمہ تعلیم کے متعلقہ حکام کو متعدد مرتبہ درخواستیں اور شکایات پیش کی جا چکی ہیں، مگر ہر بار یقین دہانیوں کے باوجود عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کے بنیادی حقِ تعلیم کے لیے فریاد کرتے کرتے تھک چکے ہیں، لیکن محکمہ تعلیم کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی گاؤں کے کینوں نے صوبائی وزیر تعلیم، محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ گاؤں حاجی خان چانڈیو کے پرائمری اسکول کی فوری طور پر عمارت تعمیر کی جائے، فرنیچر سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور طلبہ کو باعزت اور محفوظ تعلیمی ماحول مہیا کیا جائے، تاکہ معصوم بچوں کا تعلیمی مستقبل مزید تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button