سرمہ یا کاجل؟ آنکھوں کی دلکشی بڑھانے سے پہلے یہ اہم باتیں ضرور جان لیں!

ایمل سفیان
آنکھوں کو خوبصورت بنانے کے لیے صدیوں سے سرمہ استعمال کیا جاتا رہا ہے، جبکہ کاجل بھی برصغیر سمیت دنیا کے کئی معاشروں میں خواتین کے میک اپ کا اہم حصہ ہے۔ دونوں آنکھوں کو نمایاں، بڑی اور پُرکشش دکھا سکتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ سرمہ بہتر ہے یا کاجل؟ خوبصورتی کے معاملے میں تو انتخاب ذاتی پسند کا ہے، مگر آنکھوں کی صحت کے لیے دونوں میں واضح فرق سمجھنا ضروری ہے۔
سرمہ بنیادی طور پر ایک روایتی کاسمیٹک ہے جسے آنکھوں کے کناروں پر لگایا جاتا ہے۔ روایتی سرمے میں مختلف معدنی اجزا استعمال ہوتے رہے ہیں اور بعض روایتی مصنوعات میں لیڈ (سیسہ) کی مقدار بھی پائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر قسم کا سرمہ آنکھوں کے لیے محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا۔ خاص طور پر غیر معروف یا بغیر اجزا درج کیے فروخت ہونے والے سرمے سے محتاط رہنا چاہیے۔ بچوں کے لیے ایسے سرمے کا استعمال مزید تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
دوسری طرف کاجل عموماً جدید کاسمیٹک مصنوعات میں شمار ہوتا ہے اور اس کی تیاری میں موم، روغنی اجزا، رنگ اور دیگر کاسمیٹک اجزا شامل کیے جاتے ہیں۔ معیاری کمپنیوں کے کاجل عموماً اس مقصد کے لیے بنائے جاتے ہیں کہ وہ آنکھوں کے گرد استعمال کے لیے نسبتاً محفوظ ہوں۔ تاہم ہر کاجل یکساں نہیں ہوتا۔ غیر معیاری یا جعلی مصنوعات میں ایسے اجزا شامل ہو سکتے ہیں جو آنکھوں میں جلن، الرجی یا انفیکشن کا سبب بنیں۔
خوبصورتی کے اعتبار سے سرمہ آنکھوں کو روایتی اور گہرا تاثر دیتا ہے، جبکہ کاجل زیادہ واضح اور جدید میک اپ لُک پیدا کرسکتا ہے۔ واٹر پروف کاجل بھی دستیاب ہے جو نمی یا پسینے میں نسبتاً زیادہ دیر تک برقرار رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزمرہ میک اپ کے لیے بہت سی خواتین کاجل کو ترجیح دیتی ہیں۔
لیکن اصل احتیاط اس بات میں ہے کہ آنکھوں کے اندرونی حصے میں کوئی بھی غیر محفوظ مصنوعات نہ لگائی جائے۔ میک اپ شیئر کرنا، پرانا کاجل استعمال کرنا یا سوتے وقت آنکھوں کا میک اپ نہ اتارنا بھی آنکھوں میں جلن اور انفیکشن کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ اگر کسی پروڈکٹ کے استعمال سے آنکھوں میں سرخی، خارش، پانی آنا یا جلن شروع ہو تو اسے فوراً استعمال کرنا بند کردینا چاہیے۔
تو پھر سرمہ بہتر ہے یا کاجل؟ اگر مقصد صرف خوبصورتی ہے تو فیصلہ ذاتی پسند پر چھوڑا جاسکتا ہے، لیکن صحت کے اعتبار سے ایسی کاسمیٹک مصنوعات کا انتخاب زیادہ بہتر ہے جو معتبر کمپنی کی ہوں، ان کے اجزا واضح طور پر درج ہوں اور آنکھوں کے استعمال کے لیے باقاعدہ تیار کی گئی ہوں۔ روایتی سرمہ صرف اس لیے محفوظ نہیں ہوجاتا کہ اسے نسلوں سے استعمال کیا جارہا ہے۔
آنکھیں چہرے کی سب سے حساس اور قیمتی خصوصیات میں شامل ہیں، اس لیے ان کی خوبصورتی بڑھانے کے شوق میں صحت کو نظرانداز کرنا دانش مندی نہیں۔ خوبصورت آنکھیں وہی ہیں جو خوبصورت نظر آنے کے ساتھ صحت مند بھی رہیں۔



