سورج کی سب سے واضح تصاویر جاری، سائنسدان بھی حیران

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)سورج کی جانب دیکھنا ہی ممکن نہیں اور اس کی واضح تصویر لینا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔
مگر ہمارے نظام شمسی کے ستارے کی نئی تصاویر سامنے آئی ہیں جو اس کی سطح کی انتہائی تفصیلی تصاویر ہیں۔
امریکی ریاست ہوائی میں نصب Inouye سولر ٹیلی اسکوپ نے سورج کی ان تصاویر کو کھینچا۔
اسے دنیا کی سب سے طاقتور سولر ٹیلی اسکوپ قرار دیا گیا ہے جو سورج کا مشاہدہ انتہائی گہرائی میں جاکر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس نے پہلے بھی تصاویر کھینچی تھیں مگر نئی تصاویر ہمارے نظام شمسی کے ستارے کی سطح کی سب سے زیادہ تفصیلی تصاویر ہیں۔
تصاویر میں پروں جیسا ایک منفرد پیٹرن سورج کی سطح پر نظر آرہا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ پیٹرن سورج کے مقناطیسی فیلڈ کا ہے جو گرم گیسوں کے باعث لہریے انداز میں متحرک ہے۔

یہ تصاویر سورج کی سطح کے ایسے پراسیس کو دکھاتی ہیں جو دہائیوں پرانے اس اسرار کی وضاحت کرتا ہے کہ سورج کی بیرونی سطح یا کورونا آخر اس کی سطح سے کروڑوں گنا زیادہ گرم کیوں ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ سورج کی سطح کی اب تک کی سب سے بہترین ریزولوشن والی تصاویر ہیں۔
ماضی میں اس ٹیلی اسکوپ کے مشاہدے میں سورج کی سطح پر ایسے ریت جیسے اسٹرکچرز کو دریافت کیا گیا تھا جس کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے ریت کو مائیکرو اسکوپ میں دیکھا جا رہا ہو۔
ایسے ہر اسٹرکچر کا حجم فرانس کے رقبے جتنا تھا مگر نئی تصاویر میں زیادہ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
نئی تصاویر میں جس پیٹرن کو سورج کی سطح پر شناخت کیا گیا، جو تیزی سے متحرک کرنے والے پلازما بنتے ہیں۔
اس پیٹرن کو Kelvin-Helmholtz instabilities (کے ایچ آئیز) کا نام دیا گیا ہے۔
کے ایچ آئی کو زمین میں جھیلوں، سمندروں اور بادلوں کے بننے کے عمل کے دوران دیکھا گیا جبکہ مشتری اور زحل میں دریافت کیا گیا ہے، مگر اب تک سورج میں ان کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
شمسی سرگرمیوں خاص طور پر اس ستارے کے مقناطیسی میدانوں کی سرگرمیوں سے زمین پر بجلی کے گرڈز، سیٹلائیٹس، جی پی ایس پوزیشننگ اور عالمی کمیونیکیشنز پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہ مقناطیسی میدان سورج کے گرم لاوا سے بنتے ہیں مگر ان کو اب تک مکمل طور پر سمجھا نہیں جاسکا۔
ماہرین یہ جانتے ہیں کہ ان مقناطیسی میدانوں کی وجہ سے اچانک بہت زیادہ حرارت کا اخراج ہوتا ہے، مگر ایسا کیوں ہوتا ہے، یہ واضح نہیں۔
مگر نئی تصاویر سے عندیہ ملتا ہے کہ اسی وجہ سے ہی سورج کی سطح کا درجہ حرارت تو 6000 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے مگر بیرونی سطح کا درجہ حرارت لاکھوں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔



