ٹی وی سرویزسےفرق نہیں پڑتا،سندھ کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں،شرجیل میمن کا دوٹوک اعلان

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں، سندھ اسمبلی اس حوالے سے قرارداد بھی منظور کرچکی ہے، ٹی وی چینلز کے سرویز سے کیا فرق پڑتا ہے؟

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ لسانیت کو ہوا دی جارہی ہے، پاکستان کو دوبارہ لسانیت کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔

سینئر وزیر نے افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی افواج جرات اور بہادری کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہیں، قوم اپنی افواج کو سلام پیش کرتی ہے۔

شرجیل میمن نے صدر آصف علی زرداری کے دورہ چین کا ذکر کرتے ہوئے پاک چین دوستی کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ہمالیہ سے بلند اور سمندر کی گہرائی سے زیادہ گہرے ہیں۔ سندھ اور چین کا صوبہ حنان سسٹر صوبوں کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت چین میں سرمایہ کاری کانفرنس منعقد کررہی ہے، جس میں وزیراعلیٰ سندھ بھی شرکت کریں گے۔ ان کے مطابق چائنا الیکٹرک نے تھرکول منصوبے میں سرمایہ کاری کی ہے جبکہ آئندہ سرمایہ کاری کانفرنس میں اربوں روپے کے معاہدے متوقع ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں کو سندھ لایا جائے۔ ان کے بقول پارٹی اپنے قیام سے ہی سازشوں اور پروپیگنڈے کا شکار رہی ہے، تاہم پیپلز پارٹی کے ادوار میں بڑے منصوبے سامنے آئے۔

انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان پیپلز پارٹی نے بنایا جبکہ ایٹمی طاقت اور میزائل ٹیکنالوجی بھی پیپلز پارٹی کے دور میں ممکن ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سندھ میں اپنے 18 سالہ دور کا حساب دینے کے لیے تیار ہے۔

سینئر وزیر کے مطابق صرف تھرکول منصوبے پر ایک ارب ڈالر خرچ کیے گئے، تھر کا کوئلہ سندھ میں نکل رہا ہے اور وفاق کو بھی فراہم کیا جارہا ہے، اس پر خوش ہونا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تھرپارکر کے کوئلے سے دو سال تک بجلی برآمد کی جاسکتی ہے۔شرجیل میمن نے سندھ میں صحت کی سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان سے لوگ علاج کے لیے کراچی آتے ہیں، سندھ کے اسپتالوں میں مریضوں سے شناختی کارڈ نہیں پوچھا جاتا۔ ان کے مطابق سائبر نائف کی سہولت سندھ میں مفت فراہم کی جارہی ہے جبکہ پھیپھڑوں اور جگر کی پیوند کاری کا علاج بھی مفت کیا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے صوبے بھر میں اسپتال قائم کیے ہیں اور ایئر ایمبولینس سروس بھی شروع کی گئی ہے جو کراچی اور سکھر سے چل رہی ہے۔ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ آمریت کے ادوار میں ایم کیو ایم حکومت کا حصہ رہی، تاہم اس کے دور میں کراچی میں کوئی اسپتال نہیں بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے گزشتہ 18 سالہ دور سے قبل بھی کراچی میں کوئی ایک اسپتال نہیں بنایا گیا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button