استنبول میں موسلادھاربارش اور سیلابی صورتحال،14سالہ لڑکا جاں بحق،1277مقامات زیرِآب

🔴 Sarıyer’de durum çok ciddi.
#yağmur #SONDAKİKA #istanbultrafiği #sağanak https://t.co/IVH7li37P4
— Celal Çiftçi (@Celalciftcitr) October 14, 2026
ترک میڈیا ادارے ڈیلی صباح کے مطابق استنبول کے علاقے فاتح کے محلے بالات میں چوکربوستان پارک کے قریب بارش کے پانی میں داخل ہونے والے 14 سالہ لڑکے کو بجلی کا کرنٹ لگ گیا۔ حکام نے لڑکے کی شناخت صرف ابتدائی حروف ایم آئی کے ذریعے ظاہر کی ہے۔ اسے بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔ گورنر آفس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کردی ہے۔
استنبول کے گورنر آفس کے مطابق بارش سے متعلق ہنگامی اداروں کو مجموعی طور پر 2518 اطلاعات موصول ہوئیں۔ سیلابی صورتحال کے علاوہ 47 افراد کے پھنسنے، 13 درخت گرنے اور دو چھتوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ شدید موسم کے باعث 808 گھروں، 280 کاروباری مراکز اور 76 گاڑیوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
شہر کے ایشیائی حصے میں واقع ضلع بی کوز کے علاقے اومرلی میں سب سے زیادہ 193.84 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ارناووت کوئے میں 125.9 ملی میٹر، سریئر کے آئی ٹی یو مسلک علاقے میں 124.72 ملی میٹر اور چاتالجا میں 75.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
محکمہ موسمیات کی پیشگی وارننگ کے بعد ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی کے علاقائی دفتر میں ہنگامی رابطہ مرکز قائم کردیا گیا۔ سیلابی پانی نکالنے اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے تقریباً 8 ہزار اہلکار، 2 ہزار گاڑیاں اور تعمیراتی مشینری تعینات کی گئی۔
شدید بارش کے باعث ٹریفک کا دباؤ تقریباً 90 فیصد تک پہنچ گیا، جس سے اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی مسافروں کا رش بڑھ گیا۔
مزید بارش کے خدشے کے پیش نظر حکام نے جمعرات کو استنبول بھر میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کردیں، جبکہ خطرناک سڑکوں کے باعث موٹر سائیکلوں کی آمدورفت پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ گورنر داؤت گل نے شہریوں، خصوصاً شہر کے ایشیائی حصے میں رہنے والوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔
گورنر آفس کے مطابق بارش کے باوجود کوئی سڑک بند نہیں ہوئی اور ہوائی اڈوں کے رن وے معمول کے مطابق کام کرتے رہے۔ پروازیں منسوخ ہونے کی بھی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔



