استنبول میں موسلادھاربارش اور سیلابی صورتحال،14سالہ لڑکا جاں بحق،1277مقامات زیرِآب

استنبول (جانو ڈاٹ پی کے) ترکیہ کے شہر استنبول میں موسلادھار بارش نے نظامِ زندگی درہم برہم کردیا، سڑکوں، گھروں اور کاروباری مراکز میں پانی داخل ہوگیا، جبکہ سیلابی پانی میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے 14 سالہ لڑکا جاں بحق ہوگیا۔ شدید بارش کے باعث شہر میں 1277 مقامات پر سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، جبکہ 15 مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

ترک میڈیا ادارے ڈیلی صباح کے مطابق استنبول کے علاقے فاتح کے محلے بالات میں چوکربوستان پارک کے قریب بارش کے پانی میں داخل ہونے والے 14 سالہ لڑکے کو بجلی کا کرنٹ لگ گیا۔ حکام نے لڑکے کی شناخت صرف ابتدائی حروف ایم آئی کے ذریعے ظاہر کی ہے۔ اسے بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔ گورنر آفس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کردی ہے۔

استنبول کے گورنر آفس کے مطابق بارش سے متعلق ہنگامی اداروں کو مجموعی طور پر 2518 اطلاعات موصول ہوئیں۔ سیلابی صورتحال کے علاوہ 47 افراد کے پھنسنے، 13 درخت گرنے اور دو چھتوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ شدید موسم کے باعث 808 گھروں، 280 کاروباری مراکز اور 76 گاڑیوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

شہر کے ایشیائی حصے میں واقع ضلع بی کوز کے علاقے اومرلی میں سب سے زیادہ 193.84 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ارناووت کوئے میں 125.9 ملی میٹر، سریئر کے آئی ٹی یو مسلک علاقے میں 124.72 ملی میٹر اور چاتالجا میں 75.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

محکمہ موسمیات کی پیشگی وارننگ کے بعد ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی کے علاقائی دفتر میں ہنگامی رابطہ مرکز قائم کردیا گیا۔ سیلابی پانی نکالنے اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے تقریباً 8 ہزار اہلکار، 2 ہزار گاڑیاں اور تعمیراتی مشینری تعینات کی گئی۔

شدید بارش کے باعث ٹریفک کا دباؤ تقریباً 90 فیصد تک پہنچ گیا، جس سے اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی مسافروں کا رش بڑھ گیا۔

مزید بارش کے خدشے کے پیش نظر حکام نے جمعرات کو استنبول بھر میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کردیں، جبکہ خطرناک سڑکوں کے باعث موٹر سائیکلوں کی آمدورفت پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ گورنر داؤت گل نے شہریوں، خصوصاً شہر کے ایشیائی حصے میں رہنے والوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔

گورنر آفس کے مطابق بارش کے باوجود کوئی سڑک بند نہیں ہوئی اور ہوائی اڈوں کے رن وے معمول کے مطابق کام کرتے رہے۔ پروازیں منسوخ ہونے کی بھی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button