ڈیزل سستا،کرائے مہنگے!شرجیل میمن کازائد کرایہ وصول کرنے والوں کیخلاف بڑاایکشن

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مسافروں سے زائد کرایہ وصول کیے جانے کا سخت نوٹس لے لیا۔
شرجیل انعام میمن نے سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی کمی پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور مسافروں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
ایک بیان میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہِ راست عوام تک پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مختلف روٹس پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کی مؤثر نگرانی کی جائے تاکہ ٹرانسپورٹرز مسافروں سے مقررہ کرائے سے زائد رقم وصول نہ کرسکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ٹرانسپورٹر کو من مانا یا زائد کرایہ وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جو ٹرانسپورٹرز ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مسافروں سے اضافی کرایہ وصول کررہے ہیں، ان کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شرجیل میمن نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مختلف شہروں اور روٹس پر کرایوں کی نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے اور مسافروں کی جانب سے زائد کرایہ وصولی سے متعلق موصول ہونے والی شکایات پر بلا تاخیر کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
سینئر وزیر نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی مناسب کمی ہونی چاہیے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ کرایوں میں کمی کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے ٹرانسپورٹرز کو واضح ہدایات جاری کی جائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ سندھ حکومت عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، اس لیے مسافروں سے اضافی رقم وصول کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوامی شکایات کے ازالے، ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری اور مسافروں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے نگرانی کا عمل مزید سخت کرے گی۔



