ایران نے ایک اور امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑ لیا، واشنگٹن نے تردید کردی

تہران (جانو ڈاٹ پی کے) ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحری افواج نے آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی بغیر پائلٹ زیرِ آب ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ کردیا، تاہم امریکا نے ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے تمام فعال ڈرون اثاثے اس کے کنٹرول میں ہیں۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق زیرِ آب گاڑی آبنائے ہرمز میں نگرانی اور مبینہ جاسوسی سرگرمیوں میں مصروف تھی، جسے ایک مربوط کارروائی کے دوران انٹیلی جنس معلومات اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے قابو کیا گیا۔ایرانی حکام نے ابتدائی طور پر زیرِ آب ڈرون کو REMUS 600 قرار دیا اور کہا کہ اسے ماہرین کے حوالے کردیا گیا ہے تاکہ اس میں موجود معلومات اور ڈیٹا حاصل کیا جاسکے۔ بعد ازاں پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے اس کی شناخت Mk 18 Mod 2 Kingfish کے طور پر کی۔ایرانی دعوے کے مطابق یہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں پکڑا جانے والا دوسرا امریکی زیرِ آب ڈرون ہے۔ اس سے قبل ستمبر کے آغاز میں ایران نے ایک Dive-LD خودکار زیرِ آب گاڑی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تازہ ایرانی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنے تمام فعال ڈرون اثاثوں کا کنٹرول برقرار رکھتا ہے۔ یوں زیرِ آب ڈرون کی مبینہ گرفتاری کے معاملے پر تہران اور واشنگٹن کے مؤقف ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔

رپورٹس کے مطابق REMUS 600 اور Mk 18 Mod 2 Kingfish ایک ہی پلیٹ فارم سے متعلق نام ہیں، جبکہ Kingfish امریکی بحریہ کے زیرِ آب خودکار نظام کی ایک مخصوص شکل ہے۔ تاہم ایرانی بیانات میں ڈرون کی شناخت کے حوالے سے ابتدائی اور بعد کے دعووں میں فرق سامنے آیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button