سندھ میں سرسوں کی کاشت کے رقبے میں اضافہ، خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی، شرجیل میمن

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ صوبے میں سرسوں، تل اور کینولا کی فصلوں کی کاشت میں اضافہ خوش آئند ہے۔ مقامی پیداوار بڑھنے سے خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنے، ملکی زرمبادلہ بچانے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے میں مدد ملے گی۔
اپنے بیان میں شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سندھ میں سرسوں کی کاشت کا رقبہ 51 ہزار 870 ہیکٹر سے بڑھ کر 61 ہزار 165 ہیکٹر ہو گیا ہے، جبکہ تل اور کینولا کی کاشت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیریں سندھ کے علاقوں میں سرسوں کی کاشت کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ صوبائی حکومت مقامی زرعی پیداوار میں اضافے، کاشتکاروں کی مالی معاونت اور زرعی اخراجات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ کاشتکاروں کو مالی معاونت کی فراہمی، کھاد پر سبسڈی، جدید زرعی مشینری کے فروغ اور آب پاشی کے وسائل کے مؤثر استعمال کو سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔
شرجیل انعام میمن کے مطابق بینظیر ہاری کارڈ کے ذریعے بھی کسانوں کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ کاشتکاروں کے لیے 14.9 ارب روپے کے اضافی امدادی پیکیج کے تحت ڈی اے پی کھاد کی خریداری پر سبسڈی دی جا رہی ہے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ سندھ حکومت کاشتکاروں کی معاونت اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی تاکہ مقامی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچایا جا سکے۔



