سائنس فکشن یا مستقبل کی پیش بینیاں؟ فلموں سے حقیقی سائنسی ایجادات تک کا حیران کن سفر!

نہال معظم

ایک زمانہ تھا جب ہالی ووڈ کی سائنس فکشن فلمیں ہمیں ایک ایسی دنیا دکھاتی تھیں جس میں مشینیں انسان کی بات سمجھتیں، گاڑیاں خود چلتیں، کٹے ہوئے اعضا دوبارہ حرکت کرتے، اور جینیاتی بیماریوں کا علاج جسم کے اندر موجود جینز کو تبدیل کر کے کیا جاتا۔ تب یہ سب کچھ محض خواب لگتا تھا۔ مگر آج سائنس نے ان میں سے کئی تصورات کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔

سائنس فکشن کا کمال صرف یہ نہیں کہ اس نے مستقبل کی پیش گوئی کی، بلکہ اس نے سائنس دانوں کے ذہنوں میں ایسے بیج بوئے جو اس وقت ناقابلِ تصور تھے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ فلمی دنیا کے کون سے خواب آج ہماری حقیقی دنیا میں جگہ بنا چکے ہیں۔

1۔ اسپائڈر مین کا جینیاتی تجربہ اور جین تھراپی

اسپائڈر مین میں ایک جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مکڑی کے کاٹنے سے پیٹر پارکر کے جسم میں غیر معمولی تبدیلیاں آتی ہیں اور وہ مافوق الفطرت صلاحیتیں حاصل کر لیتا ہے۔ حقیقت میں مکڑی کا کاٹنا انسان کو اسپائڈر مین نہیں بنا سکتا، لیکن فلم میں موجود جینیاتی تبدیلی کا بنیادی تصور سائنس کی ایک حقیقی شاخ سے ضرور جڑتا ہے۔

آج جین تھراپی کے ذریعے سائنس دان بعض موروثی بیماریوں کے علاج کے لیے مریض کے جینیاتی مواد میں تبدیلی کرتے ہیں۔ کچھ بیماریوں کے لیے ایسی جین تھراپیز باقاعدہ طبی استعمال تک پہنچ چکی ہیں۔ یعنی فلم کا ’’سپر پاور‘‘ والا حصہ افسانہ ہے، مگر انسان کے جینیاتی کوڈ میں مداخلت اب حقیقت ہے۔

2۔ آئرن مین کا جاروس اور مصنوعی ذہانت

ٹونی اسٹارک کا ڈیجیٹل معاون جاروس شاید فلمی دنیا کے ان تصورات میں سے ہے جو حقیقی زندگی کے قریب سب سے تیزی سے آئے۔ وہ اسٹارک کی آواز سمجھتا، سوالات کے جواب دیتا، معلومات کا تجزیہ کرتا اور مختلف کاموں میں اس کی مدد کرتا تھا۔

آج ہمارے اسمارٹ فونز اور کمپیوٹرز میں موجود مصنوعی ذہانت کے نظام آواز سمجھ سکتے ہیں، سوالات کے جواب دے سکتے ہیں، تصاویر اور دستاویزات کا تجزیہ کر سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں صارف کی ہدایت پر عملی کام بھی انجام دے سکتے ہیں۔ اگرچہ موجودہ مصنوعی ذہانت ابھی جاروس جیسی ہمہ گیر خودمختاری نہیں رکھتی، لیکن فلمی تصور اور حقیقی ٹیکنالوجی کے درمیان فاصلہ ضرور کم ہوا ہے۔

3۔ بغیر ڈرائیور گاڑی اور خودکار سفر

Back to the Future جیسی فلموں نے ایسی گاڑیوں کا تصور عام کیا جن میں مستقبل کی ٹیکنالوجی انسانی ڈرائیور کے کردار کو تقریباً ختم کر دیتی ہے۔

حقیقی دنیا میں مکمل خودمختار گاڑیاں ابھی ہر جگہ معمول نہیں بنیں، لیکن ڈرائیور اسسٹنس اور محدود خودکار ڈرائیونگ کی ٹیکنالوجی ترقی کر چکی ہے۔ گاڑیاں کیمروں، ریڈار، مختلف سینسرز اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے لین تبدیل کرنے، فاصلہ برقرار رکھنے، بریک لگانے اور مخصوص حالات میں گاڑی کو خود چلانے جیسے کام انجام دے سکتی ہیں۔ کچھ مقامات پر محدود علاقوں میں زیادہ خودمختار گاڑیوں کی آزمائش اور تجارتی استعمال بھی ہو رہا ہے۔

یعنی فلموں میں دکھائی جانے والی ’’خود چلنے والی گاڑی‘‘ اب مکمل طور پر خیالی تصور نہیں رہی، البتہ فلمی دنیا جیسی ہر جگہ اور ہر صورت میں خودمختاری ابھی حقیقت نہیں بنی۔

4۔ اسٹار وارز کے مصنوعی اعضا اور بایونک ٹیکنالوجی

Star Wars میں ایسے مصنوعی ہاتھ اور ٹانگیں دکھائی گئیں جو صرف ظاہری طور پر ہی نہیں بلکہ حرکت کے اعتبار سے بھی اصلی اعضا سے مشابہ تھیں۔ اس وقت یہ تصور انتہائی مستقبل کا معلوم ہوتا تھا، لیکن آج بایونک اعضا اور جدید مصنوعی اعضاء حقیقی زندگی میں موجود ہیں۔

جدید مصنوعی ہاتھ اور بازو بعض صورتوں میں اعصابی یا عضلاتی سگنلز کو استعمال کرکے حرکت کر سکتے ہیں۔ تحقیق اس سمت میں بھی جاری ہے کہ مصنوعی اعضا کو دماغ اور اعصابی نظام کے ساتھ زیادہ براہِ راست جوڑا جائے تاکہ صارف انہیں زیادہ قدرتی انداز میں کنٹرول کر سکے۔

یہ ٹیکنالوجی ابھی فلموں میں دکھائے جانے والے ’’سپر ہیومن‘‘ اعضاء تک نہیں پہنچی، لیکن مصنوعی اعضا کو انسانی جسم اور اعصابی نظام کے قریب لانے کا سفر واقعی جاری ہے۔

سائنس فکشن کی سب سے بڑی خوبی یہ نہیں کہ وہ مستقبل کی درست پیش گوئی کرے، بلکہ یہ کہ وہ ہمارے اندر وہ چنگاری روشن کرے جو ناممکن کو ممکن بنانے کی جرات دیتی ہے۔ جب کوئی فلمی منظر ہمارے ذہن میں یہ سوال اٹھاتا ہے کہ "کیا یہ واقعی ممکن ہو سکتا ہے؟” تو وہیں سے تحقیق کا سفر شروع ہوتا ہے۔

کل جو جینیاتی تبدیلی محض ایک کہانی تھی، آج جین تھراپی کی صورت میں زندگیاں بچا رہی ہے۔ جو مصنوعی ذہانت صرف پردے کی چمک تھی، آج ہماری جیب میں موجود ہے۔ جو خودکار گاڑی مستقبل کی علامت سمجھی جاتی تھی، آج سڑکوں پر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہے۔ اور جو روبوٹک ہاتھ صرف خلائی فلموں کی زینت تھے، آج کسی کے کٹے ہوئے ہاتھ کی جگہ لے کر اسے دوبارہ زندگی سے جوڑ رہے ہیں۔

یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ آج کی کوئی فلمی ٹیکنالوجی، آنے والی نسل کے لیے اتنی ہی معمولی ہو گی جتنا آج ہمارے لیے اسمارٹ فون ہے۔ یاد رہے خیال ہی وہ پہلا قدم ہے جس پر سائنس اپنی منزل طے کرتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button