ایران امریکا مذاکرات پھر تعطل کا شکار، عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوگیا

لندن (جانو ڈاٹ پی کے) ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، جبکہ سخت ایندھن مارکیٹ نے بھی قیمتوں کو سہارا دیا۔
رائٹرز کے مطابق بدھ کو برینٹ نومبر فیوچرز کی قیمت 60 سینٹ یا 0.6 فیصد اضافے کے بعد 103.19 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ زیادہ فعال دسمبر کنٹریکٹ 1.62 ڈالر یا 1.7 فیصد اضافے سے 97.78 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 1.19 ڈالر یا 1.3 فیصد اضافے کے بعد 90.57 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق برینٹ کی قیمت رواں ماہ تقریباً 14 فیصد بڑھنے کی جانب گامزن ہے، جو جولائی کے بعد اس کا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں ماہانہ بنیادوں پر تقریباً 5.5 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
ایران امریکا مذاکرات میں تعطل کے باوجود مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی سپلائی بحال ہونے لگی ہے۔ قطر نے امید ظاہر کی ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں کے ذریعے مذاکرات میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ’’ٹھوس‘‘ اقدامات کے بدلے تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے مشرقی اور مغربی علاقوں کو ملانے والی پائپ لائن دوبارہ فعال ہونے کے بعد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کردی ہے۔
گولڈمین سیکس کے تخمینے کے مطابق گزشتہ ہفتے خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات بڑھ کر 2 کروڑ 33 لاکھ بیرل یومیہ ہوگئیں، جو 2025 کی اوسط سطح کے برابر ہیں۔
رائٹرز کے مطابق اوپیک پلس کے رکن ممالک اتوار کو ہونے والے اجلاس میں نومبر کے لیے تیل کی پیداوار کے اہداف کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے پر غور کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خام تیل کی سپلائی بحال ہونے سے قیمتوں پر سپلائی سے متعلق دباؤ میں کمی آسکتی ہے، تاہم مصنوعات کی مسلسل قلت اور بلند فریٹ اخراجات عالمی توانائی مارکیٹ کو بدستور دباؤ میں رکھ سکتے ہیں۔



