سرگودھا جامع مسجد بلاک نمبر 1 کا اسٹرکچرل سروے،مارکیٹ کو خطرناک قرار دینے کی صورت میں فوری کلیئرنس کا فیصلہ

سرگودہا (جانوڈاٹ پی کے) کمشنر سرگودہا ڈویژن جہانزیب اعوان نے تاریخی جامع مسجد بلاک نمبر 1 کی عمارت کا مکمل اسٹرکچرل سروے کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے محکمہ بلڈنگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ لاہور کی ٹیم کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رپورٹ کی روشنی میں اگر مسجد کے نیچے واقع مارکیٹ کو خطرناک قرار دیا گیا تو پوری مارکیٹ کو خالی کرا کے فوری طور پر بند کر دیا جائے گا، کیونکہ انسانی زندگی سب سے زیادہ قیمتی ہے اور حکومت پنجاب کی ہدایت ہے کہ کسی بھی پرانی یا کمزور عمارت کو خطرناک قرار دیے جانے کی صورت میں اس کی فوری طور پر کلیئرنس یقینی بنائی جائے۔ کمشنر نے محکمہ بلڈنگ، میونسپل کارپوریشن اور پیرا کو ہدایت کی کہ وہ مسجد کے نیچے اور ارد گرد موجود تمام ڈھانچوں کا مشترکہ سروے کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کو ہدایت کی کہ مسجد کی الیکٹرکل وائرنگ کا فوری آڈٹ کروا کر رپورٹ پیش کی جائے تاکہ آگ یا شارٹ سرکٹ کا کوئی خدشہ باقی نہ رہے۔ کمشنر نے دکانوں کے اوپر کمروں میں آتش بازی کا سامان ذخیرہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ایڈمنسٹریٹر اوقاف کو ایسی دکانوں کا الاٹمنٹ فوری منسوخ کرنے اور جگہ خالی کرانے کا حکم دیا۔اجلاس میں کمشنر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مسجد ماضی میں چار اطراف سے دروازوں کے ساتھ فعال تھی اور نیچے پانچ فٹ کے برآمدے موجود تھے جو اب مکمل طور پر انکروچ ہو چکے ہیں۔ دکانداروں نے برآمدوں کے سامنے مزید تین فٹ جگہ پر بھی قبضہ کیا ہوا ہے، جس سے مجموعی تجاوزات آٹھ فٹ تک بڑھ گئی ہیں۔کمشنر نے کہا کہ بلڈنگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ لاہور کی ٹیم مسجد، مناروں اور اطراف کی تمام عمارتوں کا تفصیلی سروے کرے گی۔ رپورٹ کی بنیاد پر بحالی اور مرمت کے اگلے مراحل طے کیے جائیں گے۔ انہوں نے مسجد کے میناروں، پلستر اور دیگر خستہ حصوں کا بھی نوٹس لیا اور محکمہ اوقاف کو ہدایت کی کہ بحالی کی ایک جامع سکیم تیار کر کے حکومت پنجاب سے فنڈز طلب کیے جائیں، کیونکہ یہ مسجد اہل سرگودہا کا قیمتی تاریخی ورثہ ہے۔ ایم او آر نے پرانے نقشوں اور ریکارڈ کی بنیاد پر مسجد اور اطراف کی عمارتوں کی ابتدائی صورتحال سے اجلاس کو آگاہ کیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ ڈاکٹر بلال حسن، ایکسئین بلڈنگ امانت علی، ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل رانا شاہد، ایڈمنسٹریٹر اوقاف غلام مصطفی، سی او ایم سی ماجد بن احمد ، ایم او آر زویا بلوچ، پیرا اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔



