فیلڈ مارشل اورایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی تصویر کا معمہ سلجھ گیا

​اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)​صدر مملکت آصف علی زرداری کے اچانک دورہ لاہور اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ حالیہ ملاقات کی تصاویر نے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر زرداری کے دورہ لاہور کا مقصد کوئی سیاسی بحران یا بیماری نہیں بلکہ وہ اپنے قریبی دوست نواب شہزاد خان کی صاحبزادی کی منگنی کی تقریب میں شرکت کے لیے تشریف لائے تھے۔ اس تقریب میں وزیراعظم کے صاحبزادے سلمان شہباز اور سردار ایاز صادق سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں، جس نے ان تمام افواہوں کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ صدر زرداری کو ایوان صدر سے بے دخل کیا گیا ہے یا وہ علیل ہیں۔ مزید یہ کہ صدر زرداری جلد ہی چین کے ایک انتہائی اہم دورے پر روانہ ہو رہے ہیں جہاں سی پیک اور دیگر اسٹریٹجک معاملات پر اہم پیش رفت متوقع ہے۔

​دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کی تصاویر کے حوالے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان کی نشستوں کی ترتیب پاکستان کے آئین اور پروٹوکول کے عین مطابق ہے۔

وزارت خارجہ میں ہونے والی ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل صاحب نے ایگزیکٹو نشستوں کے بجائے سائیڈ پر بیٹھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ تمام امور آئینی حدود میں رہ کر انجام دیے جا رہے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری جنگی صورتحال اور ایران اسرائیل تنازع کے پیش نظر فوج کے سربراہ کا ان سفارتی مذاکرات میں شامل ہونا ناگزیر ہے، کیونکہ پاکستان کے909کلومیٹر طویل بارڈر کی حفاظت اور علاقائی استحکام براہ راست ان مذاکرات سے جڑا ہوا ہے۔ عالمی سطح پر فیلڈ مارشل کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور ٹرمپ جیسے رہنماؤں پر ان کے اثر و رسوخ نے پاکستان کے سفارتی محاذ کو مزید تقویت بخشی ہے، جس سے دشمن قوتوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button