صدر زرداری نے چپ کا روزہ توڑ دیا،مذاکرات کا دوسرا دور جلد شروع

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے سنسنی خیز پیشرفت سامنے آئی ہے جس نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس اراکچی نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ترین ملاقات کی ہے جس میں تہران کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے باضابطہ اور جامع جواب پیش کر دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے مثبت اشارے مل رہے ہیں جس کے بعد امریکی وفد جس میں سٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں، ہفتے کی صبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہو رہا ہے تاکہ تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ دوسری جانب جے ڈی وینس امریکہ میں رہ کر اس تمام صورتحال کی نگرانی کریں گے کیونکہ پینٹاگون نے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
ادھر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنی صحت اور ایوان صدر سے بے دخلی کی افواہوں پر خاموشی توڑتے ہوئے لاہور میں ایک نجی تقریب میں شرکت کی تصاویر جاری کر دی ہیں جس سے ان کے مخالفین کے تمام دعوے دم توڑ گئے ہیں۔ صدر زرداری نے واضح کر دیا ہے کہ وہ مکمل طور پر تندرست ہیں اور جلد ہی چین کے اہم ترین دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔ اسی دوران ریاست کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری منفی پروپیگنڈے اور میمز کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لائی گئی ہے اور کئی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری یہ "اعصاب کی جنگ” اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں دونوں ممالک اپنی عزت بچا کر نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں اور پاکستان اس تمام عمل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔




