ٹھٹھہ میں پولیو ورکرز کا احتجاج، یوسی غلام اللہ اور سمکی کو ویکسین پروگرام میں شامل کرنے کا مطالبہ

ٹھٹھہ (رپورٹ: جاوید لطیف میمن\جانوڈاٹ پی کے) یوسی غلام اللہ اور سمکی کو پولیو ویکسین اور بوسٹر ڈوز پروگرام میں شامل نہ کیے جانے کے خلاف پولیو ورکرز سراپا احتجاج بن گئے۔
یوسی غلام اللہ اور سمکی سے تعلق رکھنے والے پولیو ورکرز نے بیسک ہیلتھ سینٹر غلام اللہ سے پولیس چوکی غلام اللہ تک پیدل ریلی نکالی اور شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ یوسی غلام اللہ اور سمکی میں 15 ہزار سے زائد بچے پولیو پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں، تاہم اس کے باوجود دونوں یوسیز کو پولیو ویکسین اور بوسٹر ڈوز کے مرحلے سے نظر انداز کیا گیا ہے، جو بچوں کی صحت کے ساتھ ناانصافی ہے۔
پولیو ورکرز عمر کٹیار، شرمیلہ مصری کٹیار، الہٰ ڈنو بلوچ، بیدل رند اور دیگر نے کہا کہ پولیو ورکرز ہر مشکل صورتحال میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر گاؤں گاؤں اور گھر گھر پہنچتے ہیں اور بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کم معاوضے اور متعدد مشکلات کے باوجود پولیو ورکرز قومی ذمہ داری نبھا رہے ہیں، لیکن انتظامیہ اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے دونوں یوسیز کو نظر انداز کیے جانے سے ورکرز میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ یوسی غلام اللہ اور سمکی کو فوری طور پر پولیو ویکسین اور بوسٹر ڈوز پروگرام میں شامل کیا جائے تاکہ ہزاروں بچوں کو حفاظتی سہولیات فراہم کی جاسکیں اور پولیو ورکرز میں پیدا ہونے والی تشویش کا خاتمہ ہو۔



