تجارت میں رکاوٹیں ختم کرنے کا فیصلہ،وزیراعظم شہباز شریف نے بڑا حکم دے دیا

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تجارت کا فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کا پہلا اجلاس ہوا، جس میں ملکی تجارت، برآمدات کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تجارتی عمل میں غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ، کاروباری لاگت میں کمی اور برآمدات کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ تجارت میں سہولت کاری کے ذریعے پاکستان کو علاقائی اور عالمی سپلائی چینز کا مؤثر حصہ بنانے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔ ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کا بنیادی مقصد تجارت سے متعلق تمام طریقہ کار میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔
وزیراعظم نے زیادہ حجم رکھنے والی بندرگاہوں پر تمام متعلقہ اداروں کو کاروباری برادری کے لیے ون ونڈو سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مختلف اداروں کی مشترکہ انسپیکشن اور مشترکہ پروفائلنگ کے نظام کو فروغ دینے کے ساتھ تمام نان ٹیرف اقدامات کا جامع آڈٹ کرنے کی بھی ہدایت کی۔
شہباز شریف نے پاکستانی بندرگاہوں تک براہ راست شپنگ لائنز لانے کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ براہ راست شپنگ کی سہولت سے پاکستانی فیکٹریوں سے عالمی خریداروں تک مصنوعات کی ترسیل مزید آسان اور تیز ہوگی۔
وزیراعظم نے قومی تجارتی کارکردگی انڈیکس تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انڈیکس میں کارگو ڈویل ٹائم، کسٹمز کلیئرنس، لاجسٹکس، شپ کلیئرنس ٹائم، پوسٹ کلیئرنس آڈٹ اور پری کلیئرنس سمیت دیگر اہم اشاریوں کی پیمائش کی جائے گی۔
انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں یعنی ایس ایم ایز کا تجارت میں حصہ بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کی ہدایت بھی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایس ایم ایز کے تجارتی سفر کے مختلف مراحل کی میپنگ کی جائے تاکہ انہیں درپیش رکاوٹوں کی نشاندہی ہوسکے۔ انہوں نے تجارت میں سہولت کے لیے رسک مینجمنٹ نظام کو مزید مؤثر بنانے اور کارگو کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ صرف ہائی رسک کارگو کی تفصیلی جانچ پڑتال کی جائے جبکہ رسک مینجمنٹ اور تجارتی عمل کو تیز کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت سے بھی استفادہ کیا جائے۔
اجلاس میں تمام بندرگاہوں کے لیے ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم کے اہداف سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک 30 فیصد پری ارائیول کلیئرنس اور گرین چینل کا حصہ 65 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک مجاز اقتصادی آپریٹرز کی تعداد 50 سے زائد کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے تمام بندرگاہوں کے لیے ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم کے مقررہ اہداف کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم نے نان ٹیرف اقدامات کے جائزے کے لیے ورکنگ گروپ کی بھی منظوری دی اور ہدایت کی کہ ورکنگ گروپ ایک ماہ کے اندر روڈ میپ پیش کرے تاکہ غیر ضروری قواعد کا خاتمہ اور تجارت میں مزید آسانیاں پیدا کی جاسکیں۔
اجلاس میں وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، جنید انور چوہدری، مشیر وزیراعظم ہارون اختر خان، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کے ارکان نے شرکت کی۔



