ڈریپ 100 فیصد ڈیجیٹلائز ہوگا، ہر دوا اصلی یا نقلی آن لائن چیک ہوسکے گی، مصطفیٰ کمال

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ حکومت فارما انڈسٹری کو سہولیات فراہم کر رہی ہے اور وزارت صحت و فارما انڈسٹری کے درمیان ریڈ ٹیپ کا سلسلہ ختم کیا جا رہا ہے۔
20ویں پاک فارما اینڈ ہیلتھ کیئر ایکسپو کا افتتاح کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ڈریپ جلد 100 فیصد ڈیجیٹلائز ہوجائے گا اور نظام سے انسانی مداخلت ختم کی جائے گی۔ ہر دوا کو آن لائن چیک کیا جاسکے گا کہ وہ اصلی ہے یا نقلی، جبکہ ادویات پر بارکوڈ بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق 9 اکتوبر تک بارکوڈ نظام پر عملدرآمد نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور قواعد کی خلاف ورزی پر کمپنی کو سیل بھی کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت 52 ممالک کو فارما مصنوعات برآمد کر رہا ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کا میچورٹی لیول تھری حاصل ہونے سے پاکستان کے لیے مزید 100 ممالک کی مارکیٹیں کھل سکتی ہیں۔
ویکسین کی مقامی تیاری کا ہدف
وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان میں بچوں کو 13 ویکسینز لگائی جا رہی ہیں، تاہم یہ ویکسینز بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہیں۔ حکومت ملک میں ویکسینز کی مقامی تیاری کے لیے کام کر رہی ہے اور 2030 تک ویکسین پروگرام میں پاکستان کا حصہ 100 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ موجودہ نظام ہیلتھ کیئر کے بجائے ’’سِک کیئر‘‘ کا نظام بن چکا ہے۔ صرف اسپتال بنا کر مریضوں کا انتظار کرنا مکمل صحت کا نظام نہیں، بیماریوں سے بچاؤ اور بروقت تشخیص پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ ہیپاٹائٹس کی اسکریننگ ضرور کرائیں۔ ان کے مطابق ملک میں 17 اسکریننگ سائٹس قائم کی گئی ہیں اور حکومت ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو تقریباً 34 ہزار روپے مالیت کا 3 ماہ کا علاج مفت فراہم کر رہی ہے۔ ہیپاٹائٹس اسکریننگ کا ریکارڈ نادرا کے نظام سے منسلک کرنے پر بھی کام جاری ہے۔
ماؤں اور بچوں کی اموات پر تشویش
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں دورانِ زچگی جان سے محروم ہوجاتی ہیں جبکہ سالانہ تقریباً 4 لاکھ کمزور اور بیمار بچوں کی اموات ہورہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زچگی بیماری نہیں، بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ ضروری ہے اور ماں کا بچے کو اڑھائی سال دودھ پلانا قدرتی وقفے کا ذریعہ ہے۔
عالمی کامیابیوں کا فائدہ عوام تک پہنچانا ہوگا
صحافیوں کے سوالات کے جواب میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کو کئی بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کے حوالے سے گڈول میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی ممالک پاکستان کو خطے میں اہم اور مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل سمجھ رہے ہیں، لہٰذا عالمی سطح پر پیدا ہونے والی اس گڈول کو عوامی فائدے میں تبدیل کرنا بڑا موقع ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ وفاق سے 8 ہزار 884 ارب روپے صوبوں کو منتقل ہوئے، اب یہ وسائل نچلی سطح تک پہنچنے چاہئیں۔ ان کے مطابق صوبوں نے این ایف سی کے تحت وسائل حاصل کیے لیکن پی ایف سی کے ذریعے نچلی سطح تک منتقلی نہیں ہورہی، جو نظام کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی 26 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، لیکن انتظامی ڈھانچہ آج بھی چار بڑے صوبوں پر قائم ہے۔ آبادی بڑھنے کے ساتھ انتظامی نظام میں بھی توسیع اور اصلاح ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سینٹرلائزیشن سے ملک کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام کے مسائل حل نہ ہوں تو ریاست پر اعتماد متاثر ہوتا ہے اور مقامی مسائل حل نہ ہونے سے انتہاپسندی اور بے چینی کے لیے جگہ پیدا ہوتی ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بیرونی عناصر کے ساتھ مقامی عوامل کو بھی سمجھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں بچے گٹروں میں گر کر جاں بحق ہوں یا شہریوں کو کتے کے کاٹنے کی ویکسین تک دستیاب نہ ہو تو نظام کو درست کرنا ہوگا۔ دنیا چاند پر پہنچ رہی ہے جبکہ ہمارے بچے گٹروں میں گر کر جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے تمام مسائل کا مشترکہ حل تلاش کرنا ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیراعظم روزانہ طویل گھنٹوں تک کام کر رہے ہیں، تاہم وفاق ہر مقامی مسئلہ خود حل نہیں کرسکتا۔ اگر کسی مسئلے کا حل موجودہ آئینی ڈھانچے میں موجود نہیں تو اتفاق رائے سے آئینی ترمیم کی جاسکتی ہے۔



