آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین : سیکیورٹی کے سخت انتظامات، لائیو لوکیشن خفیہ رکھنے کا حکم!نمازِ جنازہ کے بعد شہباز شریف کی ترک صدر سےاہم ترین ملاقات!

تہران و انقرہ: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)​ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بڑی تبدیلیاں اور سیکیورٹی کے سخت ترین اقدامات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف ایران کے سپریم لیڈر کی آخری رسومات اور نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے تہران روانہ ہو رہے ہیں، جس کے بعد وہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر ایک روزہ اہم دورے پر انقرہ بھی جائیں گے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 4 سے 9 جولائی تک ایران اور عراق کے مختلف شہروں بشمول تہران، قم، نجف اور کربلا میں نمازِ جنازہ اور الوداعی جلوس نکالے جائیں گے، جس کے بعد انہیں مشہد میں حرم امام علی رضاؑ میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ اس دوران نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے شدید سیکیورٹی خدشات پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے تعزیتی تقاریب کی لائیو میڈیا براڈکاسٹ پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے اور ان کی تصاویر و ویڈیوز کو ایڈٹ یا تاخیر سے نشر کیا جائے گا تاکہ ان کی لائیو لوکیشن خفیہ رکھی جا سکے۔ تدفین کے فوراً بعد نئے سپریم لیڈر عوامی بیعت لے کر باضابطہ چارج سنبھالیں گے۔

​دوسری جانب، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا دورہِ ترکیہ انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جہاں وہ سات عرب ممالک بشمول سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ، مصر اور قطر پر مشتمل نئے مسلم دفاعی بلاک کی تشکیل پر اہم گفتگو کریں گے، جس میں اب عراق، کویت اور بحرین بھی شامل ہونے کے خواہش مند ہیں۔ اس دورے کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے مابین غضب نامی تھرمو بیرک بم، ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن اور اسٹیلتھ ڈرون ‘قزل ایلما’ کی پاکستان میں پروڈکشن لائن کے قیام جیسے بڑے دفاعی منصوبوں پر پیش رفت متوقع ہے۔ مزید برآں، ترکیہ پاکستان کے پاور سیکٹر، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری، اسپیشل اکنامک زون کے قیام اور معدنیات بالخصوص لیتھیم کی تلاش میں بھاری سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے۔

​اس اہم ترین علاقائی صورتحال، نئے مسلم دفاعی بلاک اور پاک ترک دفاعی و معاشی معاہدوں کی تمام اندرونی تفصیلات جاننے کے لیے سینئر صحافی معظم فخر کےوی لاگ کو آخر تک لازمی دیکھیں۔ وی لاگ دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button