ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو بڑا سرپرائز دینے کی تیاری؛نئے سیاسی متبادل کا خاکہ تیار!

مظفرآباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان اور آزاد کشمیر کی سیاست میں اس وقت بڑی اتھل پتھل مچ گئی ہے اور دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو بیک فٹ پر دھکیلنے کے لیے پسِ پردہ ایک نیا متبادل تیار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے، جس کی وجہ آزاد کشمیر سپریم کورٹ کی جانب سے بلے کا انتخابی نشان واپس لینا بتائی جا رہی ہے۔ سیاسی حلقوں میں پی ٹی آئی کے اس فیصلے کو شدید غیر دانشمندانہ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ آٹھ فروری کے عام انتخابات میں بھی بلے کا نشان نہ ہونے کے باوجود عوامی مقبولیت کی وجہ سے پی ٹی آئی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی، مگر اب میدان خالی چھوڑ کر سیاسی طور پر وائلڈ کارڈ دینے کی فاش غلطی دہرائی جا رہی ہے جس کا خمیازہ ماضی میں پیپلز پارٹی نے 1985 کے انتخابات کا بائیکاٹ کر کے بھگتا تھا۔
دوسری جانب آزاد کشمیر کے سابق وزیرِ اعظم سردار تنویر الیاس نے پیپلز پارٹی سے چار ٹکٹ نہ ملنے پر استعفیٰ دے کر اپنے ساتھیوں سمیت استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کی رکنِ اسمبلی تقدیس گیلانی بھی آئی پی پی کا حصہ بن چکی ہیں۔ یہ اچانک سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانے کا عمل گلگت بلتستان کے اس ماڈل کی عکاسی کرتا ہے جہاں آزاد امیدواروں کو آئی پی پی میں شامل کروا کر ایک دباؤ ڈالنے والا پارلیمانی گروپ بنا دیا گیا تھا۔ مقتدر حلقوں کی جانب سے آئی پی پی کو آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور مستقبل میں پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں ایک بڑے پریشر گروپ کے طور پر ابھارا جا رہا ہے تاکہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو قابو میں رکھا جا سکے اور پی ٹی آئی کا متبادل تیار کیا جا سکے، جس نے آصف علی زرداری اور شریف برادران کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
آزاد کشمیر کی سیاست میں آنے والے اس بڑے بھونچال، پسِ پردہ جوڑ توڑ اور نئی کنگز پارٹی کے قیام کی تمام سنسنی خیز تفصیلات جاننے کے لیے سینئر صحافی امداد سومرو کا وی لاگ کو آخر تک لازمی دیکھیں۔ وی لاگ دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:




