ہسپتالوں کے کچرے سے آبِ حیات کی تلاش۔۔۔ تجدیدِ حسن کے گھناؤنے راز

تحریر: معظم فخر
تخلیقِ کائنات کے پہلے دن سے لے کر آج کے جدید ترین ڈیجیٹل دور تک، انسان کی ایک حسرت ہمیشہ لازوال رہی ہے،اور وہ ہے ہمیشہ جوان رہنے، خوبصورت دکھنے اور ڈھلتی عمر کے اثرات کو روکنے کی خواہش۔ آبِ حیات کی تلاش سے لے کر مصر کی ملکہ کلیوپیٹرا کے گدھے کے دودھ سے نہانے کے قصوں تک، انسانی تاریخ حسن کو قید کرنے کی کوششوں سے بھری پڑی ہے۔ آج کے سائنسی دور میں اس خواہش نے ایک ایسی دیوہیکل کمرشل انڈسٹری کی شکل اختیار کر لی ہے جہاں اب "کاسمیٹک جادو” کے نام پر بوڑھے چہروں کی جھریاں اور چھائیاں غائب کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ہالی ووڈ کی نامور شخصیات اور اشرافیہ کو ہمیشہ جوان اور پُرکشش رکھنے والی ان جادوی اینٹی ایجنگ کریموں اور سیرمز کے پیچھے کتنا ہولناک، گھناؤنا اور بھیانک سچ چھپا ہوا ہے؟ اسلام آباد میں حال ہی میں بے نقاب ہونے والا ایک بین الاقوامی نیٹ ورک اسی بھیانک سچائی کا ایک لرزہ خیز ثبوت ہے۔
وفاقاتِ دارالحکومت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک ایسی سنسنی خیز اور چونکا دینے والی کارروائی کی ہے جس نے میڈیکل اور بیوٹی انڈسٹری کے تاریک ترین پہلو کو ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ایک خفیہ پروسیسنگ پلانٹ پر مارے جانے والے چھاپے کے دوران تین چینی باشندوں سمیت پانچ افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا، جو ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز سے نومولود بچوں کی نال یعنی ہیومن پلیسنٹا (Human Placenta)غیر قانونی طور پر اکٹھی کر کے اسے بین الاقوامی مارکیٹ میں اسمگل کر رہے تھے۔ یہ کوئی عام چوری یا معمولی اسمگلنگ نہیں، بلکہ کروڑوں ڈالرز کی اس بلیک مارکیٹ کا پردہ چاک ہوا ہے جہاں امیر زادوں کے حسن کو برقرار رکھنے کے لیے انسانی اعضاء کی باقاعدہ تجارت کی جا رہی تھی۔ ملزمان نے اس گھناؤنے کاروبار کے لیے اسلام آباد میں ایک جدید فیکٹری قائم کر رکھی تھی، جہاں بڑے بڑے ڈیپ فریزرز میں مائنس 20 سے مائنس 80 ڈگری سینٹی گریڈ کے شدید درجہ حرارت پر انسانی پلیسنٹا کو منجمد کیا جاتا تھا تاکہ اس کے نازک ٹشوز اور بافتیں زندہ رہیں۔ بعد ازاں، اس طبی مواد کو پروسیس کر کے پاؤڈر کی شکل دی جاتی اور "شی پلیسنٹا” (She Placenta) کے فرضی اور قانونی نام سے ایک عام بائیو پروڈکٹ ظاہر کر کے ویتنام اسمگل کر دیا جاتا۔ ویتنام سے یہ پاؤڈر یورپ کی مہنگی ترین کاسمیٹک اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو سپلائی ہوتا تھا، جہاں اسے لیگل اثاثہ بتا کر بیوٹی پروڈکٹس کا حصہ بنایا جاتا تھا۔
تجزیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ پورا معاملہ پاکستان میں عوامی شعور کی شدید کمی اور ہسپتالوں کے اندر موجود مافیا کی ملی بھگت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اصولوں کے تحت، کسی بھی خاتون یا بچے کے والدین کی تحریری اور قانونی اجازت کے بغیر اس کے پلیسنٹا کو کسی بھی کمرشل مقصد کے لیے چھونا بھی ایک سنگین جرم ہے۔ لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی یہ ہے کہ نجی کلینکس اور ہسپتالوں میں ڈیلیوری کے فوراً بعد اس نال یا ناڑو کو محض ایک "طبی فضلہ” (Medical Waste) سمجھ کر کوڑے دان کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ اسمگلرز کا یہ نیٹ ورک اسی لاپروائی کا فائدہ اٹھاتا تھا اور ہسپتال کے عملے کی مدد سے اسے خاموشی سے غائب کر کے کروڑوں روپے کما رہا تھا۔
اگر ہم اس کی عالمی مارکیٹ کا جائزہ لیں تو یہ ایک ابھرتی ہوئی اور انتہائی منافع بخش بائیو میڈیکل انڈسٹری بن چکی ہے۔ سال 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، پلیسنٹا کی عالمی مارکیٹ کا حجم تقریباً 650 ملین dollar ریکارڈ کیا گیا تھا، اور جس تیز رفتاری سے اس کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے، ماہرین کے مطابق اگلے دس سالوں میں یعنی 2034 تک یہ مارکیٹ 1.44 بلین dollar کے ہندسے کو چھو لے گی۔ جاپان اور یورپ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اس کے ایکسٹریکٹس کو باقاعدہ میڈیکل ٹریٹمنٹس، زخموں کو جلدی بھرنے اور بالوں کی نشوونما کے لیے معجزاتی دوا سمجھا جاتا ہے۔
لیکن اس کا سب سے بڑا المیہ اور سائنسی سچائی یہ ہے کہ جسے ہم کوڑا سمجھ کر ضائع کر دیتے ہیں یا جسے اسمگلرز چوری کر کے بیچ رہے ہیں، وہ دراصل جینیاتی امراض کے خلاف قدرت کا ایک انمول ترین تحفہ ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، انسانی نال اور ایمبلیکل کارڈ میں قدرت نے ایسے طاقتور سٹیم سیلز (Stem Cells) اور گروتھ فیکٹرز رکھے ہیں جن کے ذریعے مستقبل میں دل، گردے، شوگر اور جگر کی ہولناک بیماریوں کا 90 سے 98 فیصد تک کامیاب علاج ممکن ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں والدین بھاری فیسیں دے کر اپنے بچوں کے اس اثاثے کو "سٹیم بینکس” میں اگلی کئی دہائیوں کے لیے محفوظ رکھتے ہیں تاکہ کل کو اگر بچہ کسی لاعلاج بیماری کا شکار ہو تو اسی کے اپنے خلیات سے اس کی جان بچائی جا سکے۔
اسلام آباد کا یہ واقعہ حکومتِ پاکستان اور ہمارے صحت کے نظام کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جہاں ان اسمگلرز کو نشانِ عبرت بنایا جائے، وہاں ملک گیر سطح پر ایک آگاہی مہم شروع کی جائے تاکہ عوام اس کی طبی اہمیت سے واقف ہو سکیں۔ اس کے ساتھ ہی، پاکستان میں سرکاری اور نجی سطح پر باقاعدہ لائسنس یافتہ سٹیم بینکس قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ جو چیز اسمگلرز کی ہوس کا نشانہ بن کر مغرب کے بیوٹی پارلرز کی زینت بن رہی ہے، وہ ہمارے اپنے معصوم بچوں کی جانیں بچانے کے کام آ سکے۔ جب تک ہم اپنے طبی نظام کی ان دراڑوں کو بند نہیں کریں گے، تب تک انسانی جسم کے حصوں کا یہ خفیہ کاروبار اسی طرح چمکتا رہے گا۔



