یونین کونسل جھمپیر ( کوھستان ) کے متعدد دیہات بنیادی سھولیات سے محروم

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن\جانوڈاٹ پی کے)یونین کونسل جھمپیر کے کوہستانی گاؤں بچل جاکرو آنجھنی مکان کے متعدد متاثرہ دیہاتیوں نے پینے کے صاف پانی، صحت، تعلیم، روزگار، سڑک، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف شہمیر جاکرو، علی حسن، قاسم، بخش، لال محمد، پیر بخش، ممتاز جاکرو، گلزار اور رشید جاکرو کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے کہا کہ ان کا قدیمی گاؤں تقریباً ایک سو گھروں پر مشتمل ہے، لیکن جدید دور میں بھی انہیں تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں پینے کے صاف پانی، مدرسے، سولر سسٹم اور روزگار کی کوئی سہولت موجود نہیں، جبکہ صاف پانی کے لیے انہیں دور دراز علاقوں سے پانی لانا یا خریدنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں کے قریب قائم مختلف ونڈ پاور منصوبوں میں بھی مقامی افراد کو روزگار فراہم نہیں کیا جا رہا۔ مختلف کمپنیوں نے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے وعدے کیے تھے، مگر وہ آج تک پورے نہیں کیے گئے۔
مظاہرین کے مطابق ایک این جی او نے گاؤں میں اسکول کی تعمیر شروع کی تھی، لیکن ٹھیکیدار کام ادھورا چھوڑ کر فرار ہوگیا، جس کے باعث نہ اسکول مکمل ہو سکا، نہ اساتذہ مقرر کیے گئے اور نہ ہی فرنیچر فراہم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پینے کے پانی کی شدید قلت کے باعث انسانوں کے ساتھ ساتھ مویشی بھی پیاس سے پریشان ہیں۔ گاؤں والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مسجد تعمیر کی ہے، مگر وہاں بھی سولر سسٹم اور واش روم جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔
آخر میں مظاہرین نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر سید ریاض حسین شاہ شیرازی سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر گاؤں کو پینے کے صاف پانی سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ اہلِ علاقہ کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔



