سندھی اسٹوڈنٹس تحریک تھرپارکر کا دو روزہ تعلیمی تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر، فکری اور سیاسی موضوعات پر لیکچرز

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) سندھی اسٹوڈنٹس تحریک ضلع تھرپارکر کی جانب سے مٹھی کی کانجی کالونی کمیونٹی سینٹر ہال میں منعقد کیا گیا دو روزہ تعلیمی تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر ہوگیا۔ ورکشاپ کے دوران سندھی سماج، عالمی صورتحال، انقلابی تنظیم، مارکسزم، طلبہ سیاست اور سماجی تبدیلی جیسے موضوعات پر مختلف لیکچرز دیے گئے۔ ورکشاپ میں عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی تعلیمی سیکریٹری ایڈووکیٹ اسماعیل خاصخیلی، معروف اسکالر جاوید اقبال لاڑک، عاطف ملاح، صابر جروار اور ڈاکٹر قاسم سوڈھر نے خطاب کیا۔ ایڈووکیٹ وسند تھری نے "سندھی سماج اور فکر پلیجو” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رسول بخش پلیجو کا فکر سندھ کی قومی، جمہوری اور ترقی پسند جدوجہد کا سائنسی بنیادوں پر مبنی نظریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھی سماج کی تاریخی ارتقا، قومی اور طبقاتی سوالات اور سماجی تبدیلی کو سمجھے بغیر سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھانا ممکن نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رسول بخش پلیجو نے تنقیدی سوچ، مطالعے اور عوامی جدوجہد سے وابستگی پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کو سیاسی، معاشی اور سماجی تبدیلی کے شعور کے ساتھ قومی اور طبقاتی جدوجہد میں شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلیجو صاحب نے شخصیت پرستی کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے برابری اور بھائی چارے کی سیاست کی بنیاد رکھی۔ ایڈووکیٹ اسماعیل خاصخیلی نے موجودہ عالمی اور ملکی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ملک کے عوام کو ریلیف نہیں دیا جا رہا، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافہ کیا گیا ہے، جسے ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں سامراجی جنگیں اور وسائل پر قبضے کی دوڑ امن اور ترقی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ ملک کی سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریت، عدلیہ اور میڈیا کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ سندھ کے پانی اور وسائل کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔ عاطف ملاح نے اپنے خطاب میں کہا کہ انقلابی تنظیم کی بنیاد نظریاتی پختگی، اجتماعی قیادت، نظم و ضبط اور عوام سے مسلسل رابطے پر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخلاص، قربانی اور مسلسل جدوجہد کے بغیر کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ صابر جروار نے کہا کہ مارکسزم ایک آفاقی سائنسی نظریہ ہے، جسے مختلف ممالک نے اپنی تاریخی اور سماجی صورتحال کے مطابق اپنایا۔ انہوں نے ماؤزے تنگ اور ہو چی منہ کے انقلابی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مارکسزم کو مقامی حالات سے ہم آہنگ کرکے سماجی تبدیلی کی تحریکوں کو آگے بڑھایا۔ورکشاپ کے دوران ڈاکٹر قاسم سوڈھر نے طلبہ سیاست کے موضوع پر لیکچر دیا۔ جبکہ عوامی تحریک کے رہنماؤں عبدالقادر رانٹو، دیال صحرائی، اوبھائیو جوڻیجو، دیوت رائے، عمر بجیر، پردیپ گلاب، لو لکاڻي، کشور جے پال، خوشحال بھیل، نارائن سندھی، دلیپ دوشی، موہن میگھواڑ، رحمان ہنگورجو، تہذیب وسند اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید خبریں

Back to top button