زیریں سندھ میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی، ماحولیات کیلئے سنگین خطرہ

تحریر :جاوید لطیف میمن
گذشتہ کئی سالوں سے زیریں سندہ میں درختوں کا قتل عام جاری خاص طور پر ضلع ٹھٹھہ، سجاول، بدین اور ٹنڈو محمد خان میں بچے کچے جنگلات کی کٹائی کا عمل تیزی سے جاری ہے روزانہ کی تعداد میں جنگلات سے درختوں کی کٹائی سے بھرے ٹرکس کراچی شھر کی طرف روان دواں رہتے ھیں ٹھٹھہ، سجاول، بدین، ٹنڈو محمد خان سے بااثر حکومتی شخصیات اور ٹمبر مافیا کی سرپرستی میں اب تک تقریبن %89 تک جنگلات ختم ہو چکے ہیں جس کی وجھہ سے ان اضلاع میں ماحول پر غیر مثبت اثرات تیزی سے بڑہ رہے ہیں جس میں خاص طور پر زیریں سندہ میں گرمی کے موسم میں گرمی کی شدت 45 سینٹی گریڈ سے بھی اوپر جانے کے خدشات پائے جاتے ہیں زیریں سندہ میں تیز بارشوں کی وجھہ سے خاص طور پر زیریں سندہ کی ساحلی پٹی میں طوفانی اثرات تیزی سے بڑہ رہے ہیں درختوں/جنگلات کی کٹائی وجھہ سے ٹھٹھہ سمیت زیریں سندہ کے دیگر اضلاع میں بھی ہیٹ ویوز شدت اختیار کرچکی ہیں چھاؤں ختم ہوتی جا رہی ہے جبکہ دھوپ کے اثرات براہِ راست زمین پر پڑتے ہیں جنگلات کی تیزی سے کٹائی کے باعث اب آندھیاں تیز جبکہ دھول اور مٹی کے طوفانوں کے اثرات زیادہ بڑہنے کے چانسز پیدا ہو ہوچکے ہیں تو دوسری جانب مختلف موذی مرض پھیلنے کے خدشات بھی بڑہ گئے ہیں مگر افسوس نہ تو سندہ حکومت اور نہ ہی وفاقی حکومت اس ضمن میں کوئی ایکشن لینے کو تیار ہے مذکورہ عمل میں حکومتی افراد اور متعلقہ اداروں کی کرپشن اور حکومت وقت کی جانب سے عدم دلچسی ظاھر ہو ریے ہے جبکہ دوسری جانب حکومتیں عالمی ماحولیاتی اداروں سے ملک میں ماحولیات کے غیر مثبت اثرات کو روکنے اور ان سے بچنے کے لئے اربوں کھربوں کے فنڈز بٹور رہی ہیں
جنگلات کی تیزی سے ہونے والی کٹنگ کے ٹھٹھہ سمیت زیریں سندہ کے دیگر اضلاع پر پڑنے والے غیر مثبت مندرجات
1. زمین کا کٹاؤ اور بنجر ہونا
– درختوں کی جڑیں مٹی کو باندھ کر رکھتی ہیں۔ کٹائی کے بعد ہوا اور پانی سے مٹی کا کٹاؤ تیز ہو گیا ہے۔
– زیریں سندھ کے کئی علاقے ریگستان میں بدل رہے ہیں۔ زرخیز زمین ریت اور شور زدہ زمین میں تبدیل ہو رہی ہے-نتیجن فصلوں کی پیداوار کم ہورہی ہے اور کسان مقروض ہو رہے ہیں۔
2. زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی اور نمکیات کا بڑھنا
– جنگلات بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے میں مدد دیتے ہیں جنگلات کی کٹائی کے باعث پانی کی سطح نیچے چلی گئی ہے اور سمندری پانی اندر داخل ہونے لگا، جس سے زمین اور پینے کا پانی کھارا ہو گیا ہے ساحلی بیلٹ میں ہزاروں ایکڑ زمین کاشت کے قابل نہیں رہی۔
3. موسمی شدت اور گرمی کی لہریں
– درخت قدرتی کولنگ کا کام کرتے ہیں ان کے خاتمے سے مقامی درجہ حرارت 2-4 ڈگری تک بڑھ گیا ہے زیریں سندھ میں گرمی کی لہریں اب زیادہ شدید اور جان لیوا ہوگئی ہیں۔ 2022 اور 2024 میں ہزاروں افراد ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوئے۔
4. حیاتی تنوع کا نقصان
– زمینی جنگلات مقامی پرندوں، لومڑی، ہرن، گیدڑ اور رینگنے والے جانوروں کا مسکن تھے جن رہائش گاہ ختم ہونے سے کئی نسلیں علاقے سے ختم ہو گئیں یا پھر ہجرت کر گئی ہیں شہد کی مکھیوں اور پولینیٹرز کی کمی سے فصلوں کی پولینیشن بھی متاثر ہو رہی ہے۔
5. دھول کے طوفان اور ہوا کا معیار خراب ہونا
– درخت ہوا میں موجود گرد اور زہریلے ذرات روکتے ہیں۔ جنگلات نہ ہونے سے دھول کے طوفان عام ہو گئے ہیں۔
– ہوا میں PM 2.5 اور PM 10 کی سطح بڑھی ہے، جس سے سانس، دمہ اور آنکھوں کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔
6. معاشی اور سماجی دباؤ
– جنگلات پر انحصار کرنے والے کمیونٹیز کے لیے چارہ، ایندھن اور چھوٹے روزگار ختم ہو گئے ہیں لوگ شہروں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں، جس سے ٹھٹہ، سجاول، کراچی کے مضافات میں بستیوں کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
7. سیلاب کا خطرہ بڑھنا
– جنگلات بارش کے پانی کو روک کر بہاؤ سست کرتے ہیں۔ کٹائی کے بعد بارش کا پانی تیزی سے بہہ کر کچے مکانات اور فصلوں کو بہا لے جاتا ہے 2022 کے سیلاب میں زیریں سندھ کے وہ علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جہاں جنگلات کٹ چکے تھے۔
زمینی جنگلات کی کٹائی نے زیریں سندھ کو ایک ماحولیاتی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے بنجر زمین، کھارا پانی، شدید گرمی، کم پیداوار اور بے روزگاری۔ اگر فوری طور پر مقامی اقسام کے درخت لگا کر کمیونٹی بیسڈ جنگلات بحال نہ کیے گئے تو زیریں سندہ میں ماحولیات کے غیر مثت نقصانات ناقابل تلافی ہوجائیں



