میر رضا کیس: تفتیش میں مبینہ بے ضابطگیوں پر جبران ناصر کا وزیراعلیٰ سندھ کو خط

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے تفتیش میں مبینہ بے ضابطگیوں پر وزیراعلیٰ سندھ کو خط ارسال کرتے ہوئے معاملے کی براہِ راست نگرانی اور متعلقہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔
جبران ناصر ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ نئی تفتیشی ٹیم تشکیل دیے جانے کے باوجود تحقیقات قتل کے بجائے سابقہ خودکشی کے مؤقف کے گرد گھوم رہی ہیں۔ انہوں نے سابق تفتیشی ٹیم کی مبینہ کوتاہیوں اور تفتیشی ریکارڈ میں بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے ڈی آئی جی ایسٹ، ایس ایس پی ایس آئی یو، ایس ایس پی ایسٹ سمیت دیگر متعلقہ پولیس افسران کے خلاف تحقیقات اور شواہد کو نقصان پہنچانے سمیت دیگر الزامات پر محکمانہ کارروائی کی درخواست کی۔
جبران ناصر نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک متعلقہ افسران کو حساس عہدوں سے ہٹا کر معطل کیا جائے۔ ان کے مطابق پولیس کی بروقت مدد نہ ملنے پر میر رضا کے اہل خانہ نے خود گاڑی کا سراغ لگایا۔
وکیل کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم کے بعد شواہد پولیس کے حوالے کیے جانے کے باوجود کئی روز تک انہیں لیبارٹری نہیں بھیجا گیا، جبکہ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں خودکشی سے متعلق کوئی حتمی رائے موجود نہ ہونے کے باوجود سابق تفتیشی ٹیم نے خودکشی کا مؤقف اختیار کیا۔
جبران ناصر نے کہا کہ پولیس کی جانب سے مختلف سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی میڈیا کو جاری کی گئیں، جبکہ میڈیکل بورڈ کے نمونوں کی کیمیکل رپورٹ میں جی ایس آر کی موجودگی نے خودکشی کے مؤقف پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق تفتیشی ٹیم نے میر رضا کے دوستوں پر خودکشی کا مؤقف اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ ان کے مطابق نئی تفتیشی ٹیم بھی مقتول کے قرض اور کاروباری معاملات سے متعلق سوالات کررہی ہے۔
جبران ناصر نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ خود اس تفتیش کی نگرانی کریں اور سابقہ تفتیشی ٹیم کے کردار کی محکمانہ انکوائری کرائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کی موجودہ ٹیم کی کارکردگی بھی مؤثر ثابت نہ ہوئی تو وفاقی اداروں کی معاونت سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
جبران ناصر کے مطابق مقتول کے اہل خانہ کسی مخصوص فرد کو نشانہ نہیں بنانا چاہتے بلکہ اغوا، تشدد اور قتل کے اصل حقائق سامنے لانا چاہتے ہیں۔ اہل خانہ تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے یا شواہد متاثر کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کے خواہاں ہیں۔



