ٹرمپ کی گالیاں، نتن یاہو کی ہٹ دھرمی اور ایران کا غیظ و غضب، عالمی معیشت ڈبونے کی ہولناک تیاریاں

معظم فخر

​کہتے ہیں کہ کتے کی دُم کو سو سال بھی نلکی میں رکھو تو وہ ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی رہتی ہے، اور مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو پر یہ مثل سو فیصد صادق آتی ہے جنہیں واشنگٹن سے بدترین مغلظات سننے کو ملیں لیکن ان کا جنگی جنون کم نہ ہوا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ مذاکرات کا باب مکمل طور پر بند، تین جون کی میٹنگ منسوخ اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کا جواب تل ابیب اور حیفہ میں دینے کا حتمی اعلان ہو چکا ہے؛ مشرقِ وسطیٰ سے اس وقت کی سب سے بڑی اور دھماکہ خیز ڈیولپنگ سٹوری یہ ہے کہ خطہ اب ایک ایسی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ یہ محض ایک روایتی سیاسی بیان نہیں ہے بلکہ زمین پر ایک ہولناک فوجی ٹکراؤ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جہاں عراقی سمندری حدود کے قریب ایران نے اپنے ایک تیل بردار جہاز پر امریکی حملے کا دندان شکن جواب دیتے ہوئے کروز میزائل کے ذریعے ایک بحری جہاز کو نشانہ بنا کر غرقاب کر دیا ہے۔ ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے آفیشل ہینڈل سے واشنگٹن اور تل ابیب کو آخری الٹی میٹم جاری کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اگر بیروت اور لبنان پر بربریت فوراً نہ روکی گئی تو تل ابیب اور حیفہ ایک بار پھر ایرانی میزائلوں کے نتیجے میں راکھ کا ڈھیر بن جائیں گے، جس کے بعد اب مزاحمت کے محور کے تمام کردار یعنی حماس، حزب اللہ اور حوثی مشترکہ طور پر میدان میں اترنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔

​ایرانی قیادت کے اس غضب ناک اور جارحانہ تیور نے واشنگٹن اور تل ابیب کے ایوانوں میں ایسی کھلبلی مچائی ہے کہ پردے کے پیچھے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کے درمیان ہونے والا رابطہ ایک بدترین اور مغلظات سے بھرپور تکرار میں تبدیل ہو گیا۔ امریکی معتبر ویب سائٹ ‘ایکسوس’ نے اس خُفیہ گفتگو کے جو سنسنی خیز احوال بے نقاب کیے ہیں، وہ بین الاقوامی سفارت کاری کی تاریخ کا ایک تاریک باب ہیں؛ صدر ٹرمپ شدید طیش میں آ کر نتن یاہو پر چلا اٹھے، انہوں نے ننگی گالیاں دیں اور صاف الفاظ میں پاگل اور ناشکرا قرار دیتے ہوئے جتا دیا کہ "اگر میں نہ ہوتا تو تم اس وقت کرپشن کیسز میں جیل کی چکی پیس رہے ہوتے، میں تمہاری چمڑی بچا رہا ہوں لیکن تمہاری حرکتوں کی وجہ سے آج پوری دنیا اسرائیل اور امریکہ سے نفرت کر رہی ہے”۔ ٹرمپ کو شدید تشویش ہے کہ نتن یاہو صرف ایک حزب اللہ کمانڈر کو مارنے کے لیے پورے رہائشی کمپلیکسز اور ہسپتالوں کو تباہ کر کے امریکی ساکھ کو مٹی میں ملا رہے ہیں، اسی لیے ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے بیروت پر زمینی حملہ رکوا دیا ہے اور فوجیں واپس بلا لی گئی ہیں۔

​مگر سفارتی عبرت کا مقام دیکھیے کہ امریکی صدر سے گالیاں کھانے اور اتنی سخت سرزنش کے باوجود نتن یاہو کی ہٹ دھرمی برقرار ہے اور انہوں نے ٹرمپ کے امن دعووں پر پانی پھیرتے ہوئے ایکس پر پوسٹ کر دی کہ وہ دریائے لیتانی تک کے علاقے کو بفر زون بنا کر اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار رکھیں گے اور بیروت پر حملے نہیں رکیں گے۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ یہ ٹسل اب صرف امریکہ اور ایران کی نہیں، بلکہ خود ٹرمپ اور نتن یاہو کی انا کی جنگ بن چکی ہے جہاں نتن یاہو اپنے بقا کے لیے امریکی صدر کو بھی چپیڑ مار رہے ہیں۔ دوسری طرف ایران اب آر یا پار کے موڈ میں آ چکا ہے؛ القدس بریگیڈ کے سربراہ اسماعیل قانی کے اشارے کے بعد اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب کو بند کیا گیا تو دنیا کی 58 فیصد تیل کی سپلائی معطل ہو جائے گی، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ عالمی ایٹمی معاہدے (NPT) سے باہر نکلنے کا بل منظور کرنے کو تیار ہے۔ اس سنگین صورتحال نے پاکستان اور فیلڈ مارشل کی حالیہ ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی ثالثی کوششوں کو بھی برے طریقے سے زک پہنچائی ہے کیونکہ امریکی ضمانت پر اب کوئی بھی فریق بھروسہ کرنے کو تیار نہیں اور دنیا بھر میں سپر پاور کا عبرتناک مذاق بن چکا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button