گندم سبسڈی کی رقم کی ریکوری کافیصلہ،کسان تنظیموں کااحتجاج

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)گندم سبسڈی کی رقم کی ریکوری کا حکومتی فیصلہ،سندھ بھر میں کسان تنظیموں کا سخت ردعمل، احتجاجی تحریک کی تیاری۔حکومت سندھ کی جانب سے ویٹ گروؤرزسپورٹ پروگرام کے تحت سبسڈی کی رقم حاصل کرنے والے ایسے کاشتکار جنہوں نے محکمہ خوراک سندھ کو سرکاری نرخوں پر گندم فروخت نہیں کی ان کسانوں سے سبسڈی کی رقم واپس لینے کے لیے مراسلہ جاری کردیاہے جبکہ سندھ کی مختلف کسان تنظیموں نے محکمہ زراعت سندھ کے جاری کردہ مراسلے کو کسان دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ڈائریکٹوریٹ جنرل ایگریکلچر ایکسٹینشن سندھ حیدرآباد کی جانب سے جاری ہونے والے مراسلے نمبر ڈی جی اے ای ایس/ٹیک/2026/564 میں سندھ کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ سندھ ویٹ گروورز سپورٹ پروگرام 2025ء کے تحت سبسڈی حاصل کرنے والے ایسے کسانوں سے رقم واپس وصول کی جائے جنہوں نے گندم کاشت نہیں کی یا حکومتی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ مراسلے میں بدین، سجاول، ٹھٹھہ، مٹیاری، ٹنڈو الہ یار، دادو، سانگھڑ، خیرپور، لاڑکانہ، تھرپارکر اور دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ریکوری پلان تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سرکاری دستاویز کے مطابق سندھ کابینہ کے 3 اکتوبر 2025ء کے فیصلے کے تحت سندھ ویٹ گروورز سپورٹ پروگرام شروع کیا گیا تھا جس میں ایک سے پچیس ایکڑ تک اراضی رکھنے والے کسانوں کو رجسٹر کیا گیا۔ محکمہ زراعت کے فیلڈ عملے نے موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے کسانوں کی رجسٹریشن کی جبکہ مختیارکاروں نے فارم سیون بی کی بنیاد پر تصدیقی عمل مکمل کیا۔ مراسلے کے مطابق چار لاکھ سے زائد کسانوں نے رجسٹریشن کرائی جبکہ تین لاکھ چھتیس ہزار کسانوں کی تصدیق کے بعد انہیں فی ایکڑ چودہ ہزار روپے کے حساب سے مالی معاونت دی گئی تاکہ وہ ڈی اے پی کھاد خرید سکیں اور گندم کی پیداوار میں اضافہ ہوسکے۔ محکمہ زراعت نے اپنے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی کابینہ کے فیصلے کے تحت اگر کوئی کسان سبسڈی لینے کے باوجود گندم کاشت نہ کرے تو اس سے دی گئی رقم لینڈ ریونیو بقایاجات کے طور پر واپس وصول کی جائے گی جبکہ ایسے کسان آئندہ پانچ برس تک حکومتی زرعی سبسڈی اسکیموں سے بھی محروم رہیں گے۔ مراسلے میں ضلعوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایک ماہ کے اندر ریکوری پلان مرتب کرکے وصولیوں کا عمل شروع کیا جائے۔ دوسری جانب سندھ کی کسان تنظیموں نے اس مراسلے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ آبادگار رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سبسڈی دیتے وقت حکومت کی جانب سے ایسی کوئی واضح شرط عائد نہیں کی گئی تھی کہ مستفید کسان لازمی طور پر گندم محکمہ خوراک سندھ کو سرکاری نرخوں پر فروخت کرنے کے پابند ہوں گے یا گندم کی کاشت نہ ہونے کی صورت میں سبسڈی واپس لی جائے گی۔ کسان تنظیموں کے مطابق گندم سیزن گزر جانے کے بعد اس نوعیت کی کارروائیاں غیر منصفانہ، غیر حقیقت پسندانہ اور زرعی شعبے کیلئے نقصان دہ ہیں۔ کسان رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ کے بیشتر اضلاع میں پانی کی شدید قلت، نہری بحران، غیر متوقع موسمی تبدیلی، کھاد اور زرعی ادویات کی مہنگائی، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ڈیزل کی بلند قیمتوں کے باعث کاشتکار پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں اگر حکومت کسانوں سے سبسڈی کی رقوم واپس لینے کیلئے کارروائیاں شروع کرتی ہے تو اس سے زرعی معیشت مزید بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔ آبادگار تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی کاشتکار کے خلاف جبری ریکوری یا مقدمات درج کرنے کی کوشش کی گئی تو سندھ بھر میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ رہنماؤں کے مطابق ضلعی ہیڈکوارٹرز، پریس کلبوں اور شاہراہوں پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ میں گندم کی پیداوار پہلے ہی کئی مسائل کا شکار ہے۔ ایک جانب پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے پیداوار متاثر کی جبکہ دوسری جانب امدادی نرخ، خریداری پالیسی اور سبسڈی نظام پر مسلسل تنازعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان مذاکرات نہ ہوئے تو یہ معاملہ آئندہ دنوں میں ایک بڑے زرعی و سیاسی تنازعے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button