بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بڑے منصوبوں کا آغاز ہوگیا،بلاول بھٹوزرداری

کوئٹہ(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے دورے کے دوران حکومتِ بلوچستان کی جانب سے شروع کیے گئے 11 بڑے عوامی فلاح و بہبود اور صحتِ عامہ کے منصوبوں کا افتتاح کیا، جن میں صوبے کی پہلی ایئر ایمبولینس سروس اور کوئٹہ میں قائم جدید سہولیات سے آراستہ ٹراما سینٹر بھی شامل ہیں۔ یہ تاریخی منصوبے ملک کے سب سے پسماندہ صوبے میں صحتِ عامہ کے شعبے میں جدت، رسائی اور عوام دوست خدمات کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صحتِ عامہ کو کوئی مراعت نہیں بلکہ عوام کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا نظریہ اور مشن یہ ہے کہ ہر شہری کو مفت اور معیاری علاج کی سہولیات اُس کی دہلیز تک پہنچائی جائیں۔ میڈیا سیل بلاول ہاوَس سے جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے حکومت بلوچستان کی جانب سے صحتِ عامہ کے شعبے میں 11 مختلف منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی جماعت ہمیشہ عوام دوست اور غریب دوست سیاست میں یقین رکھتی ہے، ہمیشہ کوشاں رہی ہے کہ ملک کے پسماندہ طبقات و علاقوں کی خدمت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جب حکومت عام آدمی کی مدد کرتی ہے، تو اس سے ملکی معیشت کو طاقت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک، خطے اور دنیا بھر کو بہت ساری مشکلات کا سامنا ہے، جن کی وجہ سے معاشی مشکلات بھی پیدا ہو رہی ہیں۔ "خدانخواستہ، یہ جو معاشی مشکلات ہیں، یہ آگے جا کر شاید معاشی بحران بنے اور خاص طور پر پسماندہ علاقوں اور پسماندہ طبقات کیلیے مزید مشکلات میں اضافہ کریں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے نظریئے کے مطابق ہیلتھ کیئر شہری کا حق ہے، مراعات نہیں ہے۔ یہ آپ کا حق ہے، ہر پاکستانی کا حق ہے، بلوچستان کے ہر شہری کا حق ہے کہ اُن کو مفت اور معیاری علاج ملے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی معاشرے یا ریاست میں ایسا نظام نہیں ہونا چاہیے کہ جہاں پیسہ نہ ہونے یا عدم وسائل کی صورت میں کسی بھی شہری کو علاج معالجہ سے محروم رہنا پڑے اور اپنی یا اپنے کسی پیارے کی جان گنوانا پڑے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ ہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ صحت کے پبلک سیکٹر پر فوکس رکھا ہے، اور جب سے میں سیاست میں آیا ہوں تو میری یہ کوشش رہی کہ اپنے عوام کو مفت اور معیاری علاج کی سہولت فراہم کریں اور ان کا مفت و معیاری علاج اُنکے گھروں کی دہلیز پر میسر ہو۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ شعبہ صحت کےحوالے سے سندھ کی کارکردگی باقی صوبوں سے بہتر ہے، اور وہ سندھ جیسے صحت کے منصوبے بلوچستان میں شروع کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے بلوچستان صوبہ میں بیسک ہیلتھ یونٹس کے آپریشنلائزڈ ہونے کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کے شعبے میں بیسیوں ترقیاتی اقدامات پر اپنی مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنی جماعت کے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز علی بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت کی جانب سے صحت عامہ کے شعبے میں نمایاں منصوبے شروع کرنے اور دو سالوں کے قلیل عرصے کے اندر مکمل کرنے کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ جب موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی تو وہ تمام منصوبے بھی پایئہ تکمیل پر پہنچ چکے ہوں گے جو اس وقت تعمیر کے مراحل میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے آج اُن سے 20 منصوبوں کا افتتاح کرانے کا پروگرام بنایا تھا، لیکن انہوں نے ایک دن میں 11 منصوبوں کا افتتاح کرنے کی حامی بھری اور باقی منصوبوں کا افتتاح عید کے بعد اُن کے آئندہ دورہِ کوئٹہ کے موقع پر کیا جائے گا۔ پی پی پی چیئرمین نے بلوچستان میں بینظیر ایمبولینس سروس اور پیپلز ایئرایمبولینس سروس کے آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایئر ایمبولینس سروس بلوچستان صوبہ کوبہت زیادہ ضرورت تھی، جس کےذریعےدور دراز کے مریضوں کی ہنگامی منتقلی یقینی بنائی جائےگی۔انہوں نے بتایا کہ ٹراما سینٹر کوئٹہ کے دور کے دوران انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ وہاں صوبے کے دور دراز علاقوں سے ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف آ کر عوام کی خدمت کررہے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب میں نوکری چھوڑ کر کوئٹہ میں اپنے ہم وطنوں کی خدمت کیلیے ذمہ داریاں نبھانے والے ڈاکٹر کے جذبے اور عزم کو بھی سراہا۔ انہوں کہا کہ کوئٹہ ٹراما سینٹر150بیڈ پر مشتمل جدید سہولیات سے آراستہ ہے، جہاں پیپر لیس نظام ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان حکومت کی جانب سے پولیو کے خاتمے کیلیئے اقدامات کو بھی سراہا اور نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو ہی تھیں، جنہوں نے اپنے دورِ وزارتِ اعظمیٰ کے دوران ملک میں پہلی بار انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ سندھ کی طرح بلوچستان میں بھی ایس سی وی ڈی کی طرح کا نیٹ ورک بنایا جائے گا اور اس حوالے سے دونوں صوبے مِل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کا مِل کرکام کرنا، وفاق کی اصل شکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور صوبے کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کو کام کے ذریعے جواب دیتے رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ سب اچھا نہیں ہے، بہت سی مشکلات کا بھی سامنا ہے، اگر اسی طرح محنت اور مل کر کام کریں گے تو کامیابی ہو گی، اور اُن قوتوں کو شکست دیں گے جو اپنے صوبے اور ملک کی ترقی نہیں دیکھنا چاہتے۔ دریں اثنا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آج اپنے دورہ کوئٹہ کے دوران جن منصوبوں کا افتتاح کیا اُن میں، 150 بستروں کے جدید ٹراما سینٹر ، بینظیر ایمبولینس سروس، جدید طبی آلات و نوزائیدہ بچوں کے انکیوبیٹر کی سہولت سے لیس بلوچستان کی پہلی سرکاری ایئر ایمبولینس، باچا خان میموریل اسپتال کے تحت خواتین اور بچوں کو جدید علاج کی فراہمی،صوبے کے 164 بنیادی صحت مراکز کی بحالی، سرکاری ملازمین کے ہیلتھ انشورنس پروگرام، حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کا پروگرام، چائلڈ لائف ایمرجنسی سروس کے تحت بچوں کی ہنگامی طبی سہولتوں کی توسیع کا منصوبہ،محکمہ صحت بلوچستان کے ڈیجیٹل نظام، اسپتالوں میں ادویات اور طبی سامان کی فراہمی بہتر بنانے کا پیپلز ویلفیئر پروگرام، حاملہ خواتین کے جدید ریفرل نظام، اور 10 ضلعی اسپتالوں میں ٹی بی علاج مراکز کا افتتاح شامل تھا۔ قبل ازیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعلی بلوچستان کی جانب سے صوبے کے ترقیاتی کاموں پر بریفنگ دی۔ دورہِ کوئٹہ کے دوران، پی پی پی پی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری بھی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ تھیں۔



