پارلیمان مضبوط بنائیں، ملک کو توڑنے کی طرف نہ لے جائیں، محمود اچکزئی

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ پارلیمان کو طاقت کا سرچشمہ بنایا جائے، ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی مسائل پر توجہ دی جائے اور اہم قومی معاملات میں اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محض چیخ و پکار اور گالم گلوچ سے مسائل حل نہیں ہوں گے، تمام فریقوں کو مل بیٹھ کر بات کرنا ہوگی۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب حکومت سے بات کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو جواب میں گالیاں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے حنیف عباسی کے دورۂ حرم سے متعلق بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ووٹ کے لیے کتنی رقم دی گئی، اس بارے میں بتایا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ہونے والی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف اور پیپلز پارٹی سمیت تمام ارکان کو پارلیمان کی بالادستی اور مضبوطی کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
محمود اچکزئی نے کہا کہ حکومت پارلیمان کو مضبوط بنانے کے لیے قدم اٹھائے تو اپوزیشن بھی اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کو تقسیم کرنے کے بجائے اسے متحد اور مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آج تک حقیقی قومی یکجہتی پیدا نہیں کی جا سکی۔ انہوں نے مزدوروں کی کم آمدنی، مہنگائی اور عام شہریوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مہنگے ایندھن کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے تو دوسری طرف غریب طبقے کے پاس بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی وسائل نہیں۔
محمود اچکزئی نے دعویٰ کیا کہ ملک میں 6 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دینے کا کیا جواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
اپنے خطاب میں محمود اچکزئی نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان افغانستان جانے کے لیے تیار ہوں تو وہاں ان کے خاندانی روابط بھی موجود ہیں۔
انہوں نے طالبان کے حوالے سے کہا کہ ماضی میں انہیں قومی اثاثہ قرار دیا گیا تھا، اس لیے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ صورت حال فوری طور پر تبدیل ہو جائے گی۔
محمود اچکزئی نے ایران کی صورت حال پر بھی حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کو بتایا جائے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اور ارکان کو اعتماد میں لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اہم معاملات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لے گی تو وہ تعاون کے لیے تیار ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اب ملک میں کوئی نیا سیاسی فریق سامنے نہیں آئے گا، یہی تمام سیاسی قوتیں ہیں اور انہیں ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کسی کو اپنی طاقت پر غرور نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ تاریخ میں طاقتور حکمران بھی ناکام ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ حکومت اتنی اچھی ہے اور نہ اپوزیشن اتنی بری کہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا جائے۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ اختلافات کم کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور پارلیمان کو قومی مسائل کے حل کا مؤثر فورم بنائیں۔



