مکہ دفاعی معاہدہ حرکت میں آگیا؟پاکستان،ترکی اور سعودی عسکری سربراہان کا اہم اجلاس

ریاض (جانو ڈاٹ پی کے) یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت کے بعد پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے عسکری سربراہان اہم اجلاس میں سعودی عرب کی معاونت کے طریقہ کار پر غور کریں گے۔

رائٹرز کے مطابق تینوں ممالک کے عسکری سربراہان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی مدد سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے۔ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر دفاعی معاہدے کے تحت فوری چیفس آف اسٹاف اجلاس کے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی حکام کے مطابق چھ بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی روک دیا گیا۔

دوسری جانب عراق نے ایران کے لیے فضائی رابطے مزید محدود کردیئے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق بغداد اور نجف کے بعد اربیل اور سلیمانیہ کے ہوائی اڈوں نے بھی ایران سے آنے اور جانے والی پروازیں معطل کردی ہیں، جس کے بعد عراق کے ان چاروں ہوائی اڈوں سے ایرانی پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔

یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا نے ایران سے کاروباری روابط رکھنے والی بیرونِ ملک کمپنیوں کے خلاف ثانوی پابندیوں کا دائرہ بڑھایا ہے۔ ایرانی فضائی کمپنیوں کو خطے کے بعض ممالک میں بھی پروازوں سے متعلق پابندیوں کا سامنا ہے۔

 رائٹرز کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی نے تیل کی ترسیل اور عالمی بحری تجارت کو بھی متاثر کیا ہے، جبکہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں اور آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی پابندیوں کے باعث توانائی کی عالمی رسد سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button