پانی کسی فرد یاعلاقے کی ذاتی ملکیت نہیں،ہرآبادگار کا برابر حق ہے، ٹیل تک پانی پہنچایا جائے:محمد خان لنڈ

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)پیپلز پارٹی کے سینئر جیالے اور کامریڈ محمد خان لنڈ نے کہا ہے کہ پانی کسی ایک فرد، گروہ یا علاقے کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ہر آبادگار کا اس پر مساوی اور قانونی حق ہے، جو ہر صورت میں فراہم کیا جانا چاہیے۔ جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ مٹھڑاؤ کینال سے نکلنے والی رن شاخ نوکوٹ کے اٹھارہویں میل پر دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے، جن میں ایک دیپلو مائنر اور دوسری رن مائنر شامل ہے۔ ان دونوں شاخوں کے حدود میں دیہہ کالوئی، دیہہ اٹھڈھو اور دیہہ کاڑک واقع ہیں، جہاں سروے کے مطابق پچاس ہزار ایکڑ سے زائد زرعی اراضی موجود ہے۔ محمد خان لنڈ نے کہا کہ نوکوٹ سے نیچے دیہہ سیڑھی، دیہہ بھٹارو، دیہہ پھانٹ اور دیہہ ڈوڈھارو چودھویں میل تک واقع ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نوّے کی دہائی کے بعد چودھویں میل سے اوپر سیاسی بنیادوں پر متعدد نئے واٹر کورسز نکالے گئے اور ان کے موگھوں میں بھی غیر قانونی اضافہ کرکے خصوصی مراعات حاصل کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چودھویں میل سے نیچے واقع علاقوں میں برطانوی دور کے قائم کردہ واٹر کورسز آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہیں اور ان میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ آبپاشی قوانین کے مطابق 33 فیصد آبادی کی شرح مقرر ہے، مگر بعض بااثر زمینداروں اور بڑی اسٹیٹس کا رن شاخ کے پانی پر مکمل کنٹرول رہا ہے، جس کے باعث ان کی زمینیں مکمل طور پر آباد ہیں اور باغات بھی لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیل کے علاقوں کے آبادگار گزشتہ تین دہائیوں سے پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ نہ صرف زرعی زمینیں غیر آباد ہو چکی ہیں بلکہ پینے کے پانی کے بحران کے باعث متعدد خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ واٹر کورسز تباہ ہوگئے، زمینیں بنجر اور جنگلاتی شکل اختیار کر گئیں جبکہ چھوٹے آبادگار معاشی مشکلات کا شکار ہوگئے۔ محمد خان لنڈ نے یاد دلایا کہ چند سال قبل ڈائریکٹر آبپاشی منصور میمن کو ٹیل تک پانی پہنچانے کا ٹاسک دیا گیا تھا، جنہوں نے دیانتداری سے واٹر کورسز کی پیمائش درست کرکے ماڈیولز کو مضبوط بنایا۔ اس کے بعد ٹیل کے آبادگاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت واٹر کورسز بحال کیے، جھاڑیاں اور جنگلات صاف کیے اور دوبارہ کاشتکاری شروع کی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصور میمن کے تبادلے کے بعد گزشتہ سال سے ٹیل تک پانی کی فراہمی بند ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑ زمین دوبارہ بنجر ہو چکی ہے اور پینے کا پانی بھی نایاب ہوگیا ہے۔ محمد خان لنڈ نے مطالبہ کیا کہ واٹر کورسز کے موگھوں کو قانون کے مطابق درست کیا جائے، ان کی حفاظت کے لیے رینجرز تعینات کیے جائیں اور آبپاشی قوانین کے تحت مقررہ 33 فیصد سے زائد آبادی رکھنے والوں کے خلاف جرمانے عائد کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دیانتدار ٹیم کے ذریعے سروے کرا کے قانون پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹیل کے علاقوں تک پانی نہ پہنچایا گیا تو ہزاروں ایکڑ زمین، مویشی اور جنگلی حیات تباہ ہو جائیں گے، جس سے ایک بڑا انسانی اور ماحولیاتی بحران جنم لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ آبادگار اس صورتحال کے خلاف سخت احتجاج پر بھی مجبور ہو سکتے ہیں۔



