اسپین میں ٹماٹروں کی جنگ! 22 ہزار افراد نے ایک دوسرے پر 165 ٹن ٹماٹر برسا دیے

اسپین(مانیٹرنگ ڈیسک) اسپین کے علاقے ویلنشیا کے قصبے بونیول میں دنیا کا مشہور ٹماٹر فیسٹیول ’لا ٹماٹینا‘ منعقد ہوا، جہاں ہزاروں افراد نے ایک دوسرے پر ٹماٹروں کی بارش کردی۔

اس منفرد میلے میں تقریباً 22 ہزار افراد نے شرکت کی، جن میں لگ بھگ 40 فیصد مختلف ممالک سے آنے والے سیاح تھے، جبکہ فیسٹیول کے دوران تقریباً 165 ٹن ٹماٹر استعمال کیے گئے۔

ٹماٹروں سے لدے ٹرک ہجوم کے درمیان سے گزرتے رہے اور شرکا ایک دوسرے پر ٹماٹر اچھالتے رہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سفید کپڑوں میں آنے والے افراد سرخ اور گلابی رنگ میں رنگ گئے جبکہ قصبے کی سڑکیں ٹماٹر کے گودے سے بھر گئیں۔

میلے کا دورانیہ تقریباً ایک گھنٹہ رہا، جس کے اختتام کا اعلان توپ کے گولے جیسی آواز سے کیا گیا۔ بعد ازاں شرکا پر صاف پانی کا اسپرے کیا گیا اور قصبے کی سڑکوں کو بھی دھو کر صاف کردیا گیا۔

منتظمین کے مطابق ٹماٹر پھینکنے سے قبل انہیں دبا کر نرم کرنا ضروری ہے تاکہ کسی کو چوٹ نہ لگے۔ کئی شرکا آنکھوں اور کانوں کی حفاظت کے لیے سوئمنگ گاگلز اور حفاظتی پلگ بھی استعمال کرتے ہیں۔

لا ٹماٹینا کی روایت کا آغاز 1945ء میں ایک اچانک جھگڑے سے ہوا، جب مقامی نوجوانوں نے قریب موجود ٹماٹر اٹھا کر ایک دوسرے پر پھینکنا شروع کیے۔ بعد ازاں یہی واقعہ سالانہ روایت میں تبدیل ہوگیا۔

غیر مقامی افراد کے لیے اس سال میلے کے ٹکٹ کی قیمت 15 یورو رکھی گئی تھی۔ بھارت سمیت آسٹریلیا، جاپان، یورپ اور ایشیا کے مختلف ممالک سے بھی بڑی تعداد میں سیاح اس منفرد میلے میں شریک ہوئے۔

لا ٹماٹینا اب محض مقامی روایت نہیں رہی بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے والا اسپین کا ایک معروف ثقافتی اور تفریحی تہوار بن چکی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button