60سال بعدتاریخ کا بڑاراز واپس!زارسیموئیل کی باقیات بلغاریہ پہنچ گئیں

صوفیہ (جانو ڈاٹ پی کے) بلغاریہ کے قرونِ وسطیٰ کے معروف حکمران زار سیموئیل کی باقیات تقریباً 60 سال بعد طویل سفارتی مذاکرات کے نتیجے میں یونان سے بلغاریہ واپس پہنچا دی گئی ہیں۔
زار سیموئیل نے 997 سے 1014 تک پہلی بلغاریائی سلطنت پر حکومت کی اور بازنطینی سلطنت کے خلاف متعدد جنگیں لڑیں۔ 1014 میں بازنطینی فوج نے اس کی فوج کو شکست دی، جس کے کچھ عرصے بعد زار سیموئیل کا انتقال ہوگیا۔ انہیں آج بھی بلغاریہ میں قومی شناخت کی اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔
زار سیموئیل کی باقیات 1969 میں یونانی ماہرِ آثارِ قدیمہ نکولاؤس موتسوپولوس نے جھیل پریسپا کے جزیرے سینٹ اچیلیوس پر ایک قدیم کلیسا کی کھدائی کے دوران دریافت کی تھیں۔
آثارِ قدیمہ اور بشریاتی شواہد کی بنیاد پر ان باقیات کو زار سیموئیل سے منسوب کیا گیا، تاہم بعض ماہرین اب بھی اس شناخت کو قطعی طور پر ثابت شدہ نہیں سمجھتے۔
حالیہ معاہدے کے تحت یونان نے باقیات بلغاریہ کے حوالے کیں، جبکہ بلغاریہ نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران یونان سے لے جائی گئی 48 مذہبی نوادرات واپس کرنے پر اتفاق کیا۔
زار سیموئیل کی باقیات کو فوجی طیارے کے ذریعے بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ پہنچایا گیا، جہاں انہیں 21 توپوں کی سلامی اور مکمل سرکاری اعزازات کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا۔ بعد ازاں باقیات کو چرچ آف سینٹ صوفیہ میں سپردِ خاک کردیا گیا۔
3 سنسنی خیز اخباری سرخیاں:
-
-
1969 میں دریافت ہونے والی زار سیموئیل کی باقیات وطن واپس، صوفیہ میں شاندار استقبال
-
قدیم حکمران کی باقیات پر سفارتی معاہدہ، یونان سے بلغاریہ منتقلی اور 21 توپوں کی سلامی
Hashtags:



