لائبہ اعجاز کیس میں اہم پیش رفت، امریکی ویزا اور اسکالرشپ کے نام پر 93 لاکھ روپے فراڈ کا مقدمہ درج

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی دارالحکومت میں طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے امریکہ کا ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے بہانے 93 لاکھ روپے وصول کرنے کے الزام میں دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کی جانب سے درج مقدمے میں محمد نعمان اور فاطمہ سرور کو نامزد کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے متاثرہ خاندان کو امریکہ میں تعلیم کے لیے ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کا جھانسہ دے کر بھاری رقم وصول کی۔

ایف آئی اے کے مطابق مبینہ فراڈ کے لیے جعلی اسکالرشپ ایوارڈ لیٹرز، یونیورسٹی کے داخلہ آفر لیٹرز اور فیس کی ادائیگی کی رسیدیں تیار کی گئیں، جن کے ذریعے متاثرہ خاندان کا اعتماد حاصل کرکے اسے دھوکے میں رکھا گیا۔

مقدمے کے متن کے مطابق مبینہ طور پر وصول کی گئی رقم میں سے 29 لاکھ روپے لائبہ اعجاز کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ادا کیے گئے، جبکہ باقی رقم نقد وصول کی گئی۔

ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مبینہ مالی دھوکہ دہی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ذہنی اذیت کے دوران طالبہ لائبہ اعجاز انتقال کر گئیں۔ تاہم، اس معاملے میں تمام الزامات کی عدالتی کارروائی کے ذریعے تصدیق ہونا باقی ہے۔

ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419، 420 اور 109 سمیت امیگریشن آرڈیننس کی دفعات 18 اور 22 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کی کارروائی کے بعد کیس کی تحقیقات میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

یہ واقعہ بیرونِ ملک تعلیم کے خواہش مند طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے بھی ایک اہم تنبیہ ہے کہ ویزا، یونیورسٹی داخلے اور اسکالرشپ کے نام پر رقم ادا کرنے سے پہلے متعلقہ اداروں اور دستاویزات کی مستند ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔

مزید خبریں

Back to top button