بدین،شوگر ملزکے افسر پر خاتون سے مبینہ زیادتی کا الزام

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)شوگر ملزکے افسر پر خاتون سے مبینہ زیادتی کا الزام،ایف آئی آر درج ،متاثرہ خاتون کی انصاف اور تحفظ کی اپیل بدین کے کھوسکی تھانے کی حدود میں ملک کی ایک طاقتور شخصیت کی شوگر مل کے کین افسر پر خاتون سے مبینہ زیادتی کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے حیدرآباد کی رہائشی متاثرہ خاتون (م) نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزم سجاد جٹ نے دھوکے سے اپنے گھر بلا کر نشہ آور مشروب پلایا اور بے ہوشی کی حالت میں زیادتی کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ خاتون کے مطابق وہ 30 اپریل کو زمین کے لین دین کے ایک معاملے کے سلسلے میں حیدرآباد سے کھوسکی گئی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سجاد جٹ ان کے جاننے والے تھے اور وہ انہیں بھائی سمجھتی تھیں۔ خاتون کے مطابق معاملے کے حل کے لیے وہ ان کے ساتھ کڈھن شہر گئیں، تاہم جس عزیز سے لین دین کا معاملہ تھا اس عزیز سے ملاقات نہ ہونے پر واپس حیدرآباد روانہ ہونے لگیں تو ملزم انہیں بدین لے جانے کے بجائے دوبارہ کھوسکی اپنے گھر لے گیا۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ گھر پہنچنے پر سجاد جٹ نے بتایا کہ اس کی اہلیہ گھر پر موجود نہیں اور جلد واپس آ جائے گی۔ اسی دوران انہیں ایک مشروب دیا گیا، جسے پینے کے بعد وہ بے ہوش ہو گئیں۔ متاثرہ خاتون کے مطابق جب صبح ان کی آنکھ کھلی تو وہ خود کو برہنہ حالت میں پایا جبکہ ملزم بھی بغیر کپڑوں کے ان کے ساتھ موجود تھا، جس پر انہیں اپنے ساتھ زیادتی ہونے کا شبہ ہوا۔ متاثرہ خاتون نے مزید الزام لگایا کہ ملزم بااثر شخصیت ہونے کے باعث پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی اور ان کی مرضی کے مطابق ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملزم ان کی میڈیکل رپورٹ تبدیل کروانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خود کو بچایا جا سکے خاتون کا کہنا ہے کہ ملزم کے اثر و رسوخ کے باعث بعض صحافی بھی خبر چلانے سے گریز کر رہے ہیں جبکہ پولیس حکام بھی معاملے کی تفصیلات صحافیوں کو فراہم نہیں کر رہی۔ متاثرہ خاتون نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری ، وزیراعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ سندھ، آئی جی سندھ، انسانی حقوق کمیشن اور عورت ایکشن کمیٹی سے اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف اور تحفظ فراہم کرتے ہوئے ملزم کے خلاف شفاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

واضح رہے کہ خبر میں شامل الزامات متاثرہ خاتون کے موقف اور ایف آئی آر پر مبنی بیان کے مطابق ہیں، جبکہ واقعے سے متعلق رابطہ کرنے کے باوجود پولیس نے تفصیل دینے سے گریز کیا ہے جبکہ نامزد ملزم کا موقف بھی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سامنے نہیں آ سکا

مزید خبریں

Back to top button