کراچی: دہلی گورنمنٹ بوائز اسکول چوتھے روز بھی بند، طلباء سڑک پر کلاسز لینے پر مجبور

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) دہلی گورنمنٹ بوائز اسکول کی بندش کے خلاف طلباء، والدین اور اساتذہ نے اسکول کے باہر احتجاج کیا، جہاں طلباء نے سڑک پر اسمبلی منعقد کرنے کے بعد کلاسز بھی لیں۔
اسکول مسلسل چوتھے روز بند رہنے کے باعث بڑی تعداد میں طلباء، والدین اور اساتذہ اسکول کے باہر جمع ہوئے۔ اساتذہ نے کہا کہ وہ صبح ساڑھے 7 بجے سے طلباء کے ہمراہ اسکول کے باہر موجود ہیں اور تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے منتظر ہیں۔
اساتذہ کے مطابق اسکول کا مقررہ وقت صبح ساڑھے 7 بجے ہے، تاہم پرنسپل علی خان میر جت صبح 9 بجے تک اسکول نہیں پہنچے۔ ایک خاتون استاد نے اسکول کے باہر ہی طلباء کی حاضری لی، جس کے بعد طلباء سڑک پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے لگے۔
ایک والدہ نے احتجاج کے دوران ’’ہمارا اسکول واپس کرو‘‘ کے نعرے لگائے، جن کا طلباء نے بھی جواب دیا۔
صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب مشتعل طلباء نے دہلی گورنمنٹ بوائز اسکول کا تالا توڑ کر عمارت میں داخل ہوکر ہنگامہ آرائی کی۔ طلباء نے راہداری میں رکھی الماریاں توڑ دیں جبکہ بعض کلاس رومز کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
بعد ازاں پرنسپل اسکول پہنچ گئے اور اساتذہ کے ہمراہ عمارت میں داخل ہوئے، جس کے بعد تین روز کے تعطل کے بعد چوتھے روز اسکول میں تدریسی عمل دوبارہ شروع ہوگیا۔
دوسری جانب دہلی گورنمنٹ گرلز اسکول ایک روز کی بندش کے بعد یکم ستمبر سے دوبارہ کھول دیا گیا تھا، تاہم بوائز کیمپس کی بندش کے باعث طلباء کی تعلیم متاثر ہوئی۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق بوائز کیمپس میں تقریباً 700 طلباء زیر تعلیم ہیں، جبکہ پورے دہلی گورنمنٹ اسکول کے طلباء و طالبات کی تعداد 2800 سے زائد ہے۔
اسکول کی عمارت کے قبضے سے متعلق تنازع پر عدالت پہلے ہی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے، جبکہ طلباء، والدین اور اساتذہ تعلیمی سلسلہ مستقل طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔



