موجودہ دور کے فلمی گانے زوال کا شکار ہیں،جاوید اختر نے بڑی وجہ بتادی

ممبئی(جانوڈاٹ پی کے)معروف بھارتی نغمہ نگارجاوید اختر بھارتی موسیقی پر مغرب کے اثرات پر شرمندگی محسو س کرنے لگے ہیں، نئی نسل پوچھنے لگی ہے’یہ گانے کا کیا چکر ہے؟
1994ء کی مشہور فلم 1942، اے لو اسٹوری کی دوبارہ ریلیز کے موقع پر جاوید اختر نے مغربی موسیقی کے بدلتے منظر نامے اور مغربی ثقافت کے اثرات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ مغربی ثقافت اور سینما کے اثرات کے باعث نئی نسل بھارتی فلمی گانوںکی روایتی موجودگی غیر حقیقی محسوس کرتی ہے، جو باعث شرمندگی ہے۔
بھارتی نغمہ نگار نے مزید کہا کہ فن کا مقصد محض حقیقت نگاری نہیں بلکہ خوبصورتی اور دلچسپی کی فراہمی ہے، وہ موجودہ دور کے گانوں کو معنی خیز مواد کی کمی اور دہری معنویت کے باعث زوال پذیر قرار دیتے ہیں۔
جاوید اختر بھارتی فلمی موسیقی میں آنے والی اس تبدیلی کا ذمے دار نغمہ نگاروں کے بجائے فلم سازی کے بدلتے انداز کو قرار دیتے ہیں، جہاں گانے اب کہانی کا مرکزی حصہ بننے کے بجائے بیک گراؤنڈ تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ نئی نسل کہتی ہے فلموں میں گانے فیک ہوتے ہیں، مجھے بتائیں کیا آرٹ نے رئیل ہونے کا ٹھیکا لیا ہے؟ گانے کی اصل قدر ہے دیکھنے والے کے تجربے میں اضافہ کرنا اور اسے ویلیو اور بیوٹی کا احساس دینا۔
بھارتی نغمہ نگار نے کہا کہ وہ جدید موسیقی کو دو انتہائی میں تقسیم ہوتے دیکھتے ہیں، ایک جن کے الفاظ میں دہری معنویت ہو اور دوسرا جس کے الفاظ بالکل ہی بے معنی ہوں، اس کے درمیان بھرپور معنویت کا گانا نہیں بچتا۔



