سعودی عرب پر ڈرون حملے، عراقی فوجی کمانڈر برطرف، تحقیقات کا حکم

بغداد(ویب ڈیسک) سعودی عرب پر عراق سے کیے گئے ڈرون حملوں کے بعد عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے اعلیٰ فوجی کمانڈر کو عہدے سے برطرف کردیا۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق تحقیقات میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حالیہ ڈرون حملے عراق سے کیے گئے تھے، جس کے بعد جنوبی عراق کے صوبے میسان میں فوجی کارروائیوں کی سربراہی کرنے والے ایک فوجی کمانڈر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جبکہ عراقی وزیراعظم نے واقعے کے تمام پہلوؤں اور حملوں کے پسِ پردہ فریقین کے بارے میں فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق عراق سے سعودی عرب کی ایک پائپ لائن کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ سعودی حکام نے بتایا کہ عراقی وزیراعظم کی درخواست پر فی الحال جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب خبر ایجنسی کے مطابق عراق نے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر شلمچہ بارڈر کراسنگ بھی بند کردی ہے۔
عراقی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حملوں میں ملوث ثابت ہونے والے ہر شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔



