آواز سے 5 گنا تیز ’’انوکٹس‘‘طیارہ، ہوا بازی کی دنیا میں نئی دوڑ شروع

لندن(ویب ڈیسک) برطانوی ماہرین ایک ایسے جدید ہائپرسونک طیارے کی تیاری میں مصروف ہیں جو بین الاقوامی فضائی سفر کے وقت کو انتہائی مختصر کر دے گا۔
اس انقلابی پروجیکٹ کو انوکٹس کا نام دیا گیا ہے جس کا مطلب ناقابلِ شکست ہے اور یہ طیارہ جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوگا۔
یہ طیارہ 3800 میل فی گھنٹہ سے زائد کی حیران کن رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جو آواز کی رفتار سے 5 گنا زیادہ ہے۔
اس رفتار کے نتیجے میں لندن سے سڈنی کا طویل ترین سفر جو اب 21 گھنٹوں پر محیط ہے، محض 3 گھنٹوں میں طے ہو سکے گا۔
اس منصوبے پر یورپی خلائی ایجنسی اور برطانوی خلائی ایجنسی مشترکہ طور پر کام کر رہی ہیں۔
ماہرین اس طیارے کو مشہور زمانہ کونکورڈ طیارے کی جدید اور کہیں زیادہ طاقتور واپسی قرار دے رہے ہیں، جو مستقبل میں دنیا بھر کے سفر کو انتہائی تیز اور سہل بنا دے گا۔
انوکٹس طیارے کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی پرواز کا منفرد انداز ہے۔
یہ طیارہ زمین کے ماحول کی بیرونی حدود میں 80 ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچ سکے گا۔
یہ کسی راکٹ کی طرح عمودی اُڑان کے بجائے عام مسافر طیاروں کی طرح رن وے سے ہی ٹیک آف کرے گا۔
اس طیارے کی تیاری سے ہوا بازی کی صنعت میں ایک نئی اور تیز رفتار تاریخ رقم ہونے کی توقع ہے۔
اگر یہ تجرباتی منصوبہ مکمل طور پر کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں بین الاقوامی خلائی اور طویل فضائی سفر عام مسافروں کے لیے کسی عام فلائٹ کی طرح آسان ہو جائے گا۔
برطانوی انجینئرز کا یہ اقدام عالمی نقل و حمل کے نظام کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر سکتا ہے۔
جدید ہائپرسونک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے یہ طیارہ نہ صرف رفتار بلکہ کارکردگی کے نئے معیار بھی قائم کرے گا۔
جس سے دنیا کے دو حصوں کے درمیان فاصلے صرف چند گھنٹوں کی دوری پر سمٹ جائیں گے۔



