کوہستانی پٹی کے مکین بنیادی سہولیات سے محروم، مسائل کے حل کے لیے احتجاجی تحریک شروع

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن \جانوڈاٹ پی کے) ضلع ٹھٹھہ کی کوہستانی پٹی کے رہائشیوں نے ضلعی انتظامیہ، منتخب نمائندوں اور سندھ حکومت کی عدم توجہی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے جائز مسائل کے حل کے لیے جدوجہد شروع کر دی ہے۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ وہ پینے کے صاف پانی، صحت، تعلیم، روزگار، سڑکوں، بجلی، سوئی گیس اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جس کے باعث علاقے میں شدید بے چینی اور مایوسی پائی جاتی ہے۔

اس سلسلے میں تعلقہ ٹھٹھہ کی یونین کونسل جنگشاہی اور یونین کونسل جھمپیر کے مختلف دیہات، جن میں گاؤں وڈیرو محمود برفت، جان محمد برفت، سلیمان برفت، یعقوب برفت، پیارو برفت اور دیگر بستیاں شامل ہیں، کے رہائشیوں نے صحافیوں کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے اپنے مسائل اجاگر کیے۔

محمد ملوک برفت، وڈیرو محمد عیسیٰ برفت، خدا ڈنو، بشو، پیارو برفت، علی برفت اور دیگر نے کہا کہ کوہستان کے تمام دیہات کو سندھ حکومت، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں پینے کے پانی کی شدید قلت کے باعث قحط جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور انسانوں کے ساتھ ساتھ مویشی بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ لوگوں کو دور دراز علاقوں سے پانی لانے یا مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ علاقے میں قائم آر او پلانٹس اور واٹر سپلائی اسکیمیں عرصہ دراز سے ناکارہ پڑی ہیں جبکہ متعلقہ ادارے ان کی بحالی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رہے۔ انہوں نے بتایا کہ کوہستانی پٹی میں بڑی تعداد میں ونڈ پاور منصوبے موجود ہونے کے باوجود مقامی دیہات بجلی کی سہولت سے محروم ہیں اور رات کے وقت اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صحت کی بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث لوگ علاج معالجے سے محروم ہیں جبکہ روزگار، تعلیم، سڑکوں اور سوئی گیس جیسی سہولتیں بھی دستیاب نہیں۔ متاثرین کے مطابق علاقے کے سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہو چکی ہیں اور وہاں فرنیچر کی شدید کمی ہے، جس کے باعث بچے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ یونین کونسل کی سطح پر بھی عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ برسوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ووٹر ہیں اور سندھ میں مسلسل پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود کوہستان کے عوام کو فراموش کر دیا گیا ہے۔ متعدد بار احتجاج اور مطالبات پیش کرنے کے باوجود ان کے مسائل حل نہیں کیے گئے۔

کوہستانی عوام نے مطالبہ کیا کہ ان کے دیہات کو پکا کیا جائے، صاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، ناکارہ آر او پلانٹس اور واٹر سپلائی اسکیموں کو فوری بحال کیا جائے، خستہ حال اسکولوں کی ازسرنو تعمیر اور فرنیچر فراہم کیا جائے، جبکہ صحت، تعلیم، روزگار، سڑکوں، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات مہیا کر کے انہیں درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جائے تاکہ وہ بھی ملک کے دیگر شہریوں کی طرح بہتر زندگی گزار سکیں۔

مزید خبریں

Back to top button