چین نے 10 امریکی فوجی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے امریکی پابندیوں کے جواب میں 10 امریکی فوجی اور دفاعی کمپنیوں کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے انہیں چین سے دوہرے استعمال (Dual-Use) کی اشیاء کی برآمدات سے محروم کر دیا ہے۔
چینی وزارتِ تجارت کے مطابق پابندیوں کا نشانہ بننے والی کمپنیوں میں فوجی ڈرونز تیار کرنے والے ادارے اور نایاب معدنیات کی کان کنی سے وابستہ کمپنیاں شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کمپنیوں کو ایسی اشیاء کی فراہمی پر مکمل پابندی ہوگی جو فوجی اور غیر فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔
چین نے واضح کیا کہ یہ اقدام امریکی حکومت کی جانب سے چینی فوجی کمپنیوں کی مبینہ فہرست میں توسیع اور چینی اداروں کے خلاف حالیہ اقدامات کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب چینی وزارتِ مالیات نے سرکاری اداروں کو 46 امریکی کمپنیوں سے مصنوعات خریدنے سے بھی روک دیا ہے۔ ان میں امریکی دفاعی شعبے کی معروف کمپنیاں Lockheed Martin، RTX Corporation (ریتھیون) اور General Dynamics کی متعدد ذیلی کمپنیاں شامل ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب رواں ماہ امریکی محکمہ دفاع نے Alibaba Group اور Baidu سمیت کئی چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مبینہ طور پر چینی فوج سے روابط کے الزام میں بلیک لسٹ کر دیا تھا، جس کے بعد وہ امریکی دفاعی معاہدوں میں حصہ لینے کی اہل نہیں رہیں۔
چین نے ان امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ واشنگٹن کے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ اقتصادی اور تجارتی مفاہمت کے منافی ہیں۔
نئے اعلانات کے تحت چین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی تیسرے ملک کی کمپنی یا فرد کو بھی چین سے حاصل کی گئی دوہرے استعمال کی اشیاء پابندی کا شکار امریکی کمپنیوں تک منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم مخصوص ناگزیر معاملات میں خصوصی برآمدی اجازت نامے کے لیے درخواست دی جا سکے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی اور تکنیکی کشیدگی میں مزید اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے اثرات عالمی سپلائی چین، دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی مارکیٹ پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔



