پاکستانی پولٹری صنعت کو عالمی منڈی میں مقام بنانا ہوگا، ہارون اختر خان

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی پولٹری صنعت غذائی تحفظ، روزگار اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، تاہم ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں میں بھی اپنی جگہ بنانا ہوگی۔
انٹرنیشنل پولٹری ایکسپو 2026 سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ پولٹری صنعت نے دیہی علاقوں کو صنعت، لیبارٹری اور مارکیٹ سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بلند پیداواری لاگت، بیماریوں، توانائی کے مسائل اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود صنعت نے سرمایہ کاری اور پیداوار کا سلسلہ جاری رکھا، جو اس کی استقامت کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولٹری صنعت کی یہ استقامت قومی اثاثہ ہے اور اسے سازگار پالیسی ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کو ایسی پولٹری صنعت درکار ہے جو زیادہ مؤثر انداز میں پیداوار کرے، غذائیت کو عوام کے لیے سستا بنائے اور عالمی معیار پر مسابقت کی صلاحیت رکھتی ہو۔
ہارون اختر خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی پالیسیوں کو عملی نتائج اور پیداواری سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ کاروبار میں سرمایہ کاری، صنعتی توسیع اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہی حکومتی اقدامات کی کامیابی کا اصل پیمانہ ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے پولٹری صنعت کے لیے فیڈ اور دیگر ضروری خام مال کی بلاتعطل دستیابی کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ سویا بین سمیت دیگر خام مال کی درآمد سے متعلق فیصلے واضح تقاضوں اور مقررہ مدت کے اندر کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پراسیسڈ، پیکجڈ اور برانڈڈ حلال پولٹری مصنوعات کی عالمی منڈی تک رسائی بڑھانا ہوگی۔ حلال سرٹیفکیشن کے ساتھ بیماریوں کی نگرانی، عالمی معیار کی پروسیسنگ اور ٹریس ایبلٹی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق بائیو سکیورٹی صرف پولٹری فارمز کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ برآمدی مواقع کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔
ہارون اختر خان نے مؤثر کولڈ چین کو مصنوعات کے معیار اور پاکستانی برانڈز کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی پولٹری مصنوعات کا معیار اور قیمت عالمی خریداروں کو انہیں دوبارہ منتخب کرنے پر آمادہ کرے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر برآمدات کے لیے عملی روڈ میپ تیار کیا جائے گا، جس میں ترجیحی منڈیوں، ضروری منظوریوں، پیداواری استعداد اور متعلقہ ذمہ داریوں کا واضح تعین شامل ہونا چاہیے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، پریسیژن فیڈنگ، جدید جینیات، بیماریوں کی بروقت تشخیص اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے پولٹری صنعت کی پیداواری صلاحیت میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ بین الاقوامی شراکت داروں کو پاکستان میں ٹیکنالوجی، تربیت اور مقامی سپلائی چین کی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بائیوٹیکنالوجی، انجینئرنگ، فوڈ سائنس اور کاروبار سمیت پولٹری صنعت سے متعلق مختلف شعبوں میں مواقع فراہم کرنا ہوں گے تاکہ وہ ملک میں رہ کر پیداواری شعبوں میں اپنا مستقبل تعمیر کر سکیں۔
ہارون اختر خان کا کہنا تھا کہ حکومت اور صنعت کے درمیان مضبوط شراکت داری پائیدار صنعتی ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ صنعتی مسائل کے حل کے لیے واضح ترجیحات، ذمہ داریوں کے تعین اور باقاعدہ فالو اپ کا مؤثر نظام ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایسا کاروباری ماحول فراہم کرنا چاہتی ہے جہاں صنعتکار اگلے بحران کے بجائے اگلی دہائی کی منصوبہ بندی کر سکیں۔ آئی پیکس 2026 میں ہونے والی شراکت داریوں کو مستقبل میں پائیدار سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع میں تبدیل ہونا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج کیے جانے والے فیصلے پاکستان کی صنعتی اور پیداواری صلاحیت کے مستقبل کا تعین کریں گے، جبکہ ملک کی ترقی کا راستہ معیاری، مسابقتی اور برآمدی پیداوار کے فروغ سے ہو کر گزرتا ہے۔ پاکستانی مصنوعات دنیا بھر میں اپنے معیار اور بہترین کارکردگی کے ذریعے ملک کی شناخت بنیں، یہی قومی صنعتی ترقی کا مقصد ہونا چاہیے۔



