قومی سلامتی میں عوام کی جان، خوراک اور معاشی تحفظ بھی شامل ہے، رانا تنویر حسین

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ قومی سلامتی صرف سرحدوں کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ عوام کی جان، صحت، خوراک اور معاشی تحفظ بھی اس کا بنیادی حصہ ہیں، قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر پاکستان کو پیشگی تیاری اور مؤثر رسپانس کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

نیشنل ریسکیو چیلنج 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ چیلنج میں شریک ہر ریسکیور پاکستان کا چیمپئن ہے، جو اپنی صلاحیتیں انسانی جانوں کے تحفظ اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کیے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ریسکیو چیلنج تجربات، مہارتوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے تبادلے کا اہم قومی پلیٹ فارم ہے۔ ریسکیورز کی اصل کامیابی ٹرافی حاصل کرنا نہیں بلکہ مشکل کی گھڑی میں انسانی جان بچانا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے پیشگی تیاری اور مؤثر ہنگامی ردعمل کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا ہے اور مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے آج ہی مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس لیے عوام کے لیے خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ زرعی شعبے کو قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ قدرتی آفات زراعت، مویشیوں، دیہی آبادی اور غذائی سپلائی کے نظام کو شدید متاثر کرسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیزاسٹر رسپانس کے ساتھ بروقت انخلا، فصلوں اور مویشیوں کا تحفظ اور متاثرین کی فوری بحالی کے لیے جامع اقدامات ضروری ہیں۔ حکومت خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے جبکہ زرعی شعبے میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی اولین ترجیحات میں زرعی شعبہ شامل ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ کو مزید بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے ریسکیو سروسز اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مضبوط رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محفوظ اور مستحکم پاکستان کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ ریسکیو 1122 نے مشکل کی گھڑی میں عوام کو فوری امداد فراہم کرنے کا قابلِ اعتماد ماڈل پیش کیا ہے، جبکہ ریسکیورز کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں قدرتی آفات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button